| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پانچ بم استعمال کیے گئے‘
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے تصدیق کی ہے کہ جنرل مشرف پر ہفتے کو ہونے والے حملے میں پانچ رموٹ کنٹرول بموں کا استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں کہا کہ ماہرین ابھی شواہد کا جائزہ لے ہی رہے ہیں، لیکن اب تک کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملے میں استعمال کئے جانے والے بم جدید سخت کے تھے اور پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ان بموں کا استعمال کیا ہے وہ اس شعبے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ تاہم انہو ں نے یہ نہیں بتایا یہ بم کہاں سے آئے اور اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ادھر خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے پاکستان کے خفیہ اہلکاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس حملے کے پیچھے القاعدہ یا اس سے متعلقہ ایک پاکستانی تنظیم حرکت المجاہدین العالمی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ العالمی کے کئی اراکین کو پہلے ہی جنرل مشرف کو قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ایک انٹلیجنس اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ان دھماکوں کے طریقۂ کار سے انگلی ان ہی کی طرف اٹھتی ہے۔ یہ اعلیٰ تربیت یافتہ افراد کا کام ہے اور اسی لئے ہمارا شبہہ ان پر ہے۔‘ واضح رہے کہ ستمبر میں ایک عربی ٹی وی چینل پر القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا ایک آڈیو ٹیپ نشر کیا گیا جس میں پاکستانیوں پر زور دیا گیا کہ وہ صدر مشرف کی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||