| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت
اتوار کو راولپنڈی میں ہونے والے دھماکے کے بعد صدر مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ راولپنڈی کے چکلالہ علاقے میں واقع ایک پل پر اس وقت بم دھماکہ ہوا تھا جب صدر جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں کی گاڑیوں کا قافلہ ابھی چند سیکنڈ پہلے وہاں سے گزرا تھا۔ دھماکے سے پل کا کافی حصہ اڑ گیا اور سڑک کو شدید نقصان پہنچا لیکن اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ دھماکے کی جگہ کے قریب تعینات پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ہوا سکتا ہے کہ صدر کی حفاظت پر معمور عملے میں کچھ کے خلاف ڈیوٹی کے دوران غفلت برتنے پر تادیبی کارروائی کی جائے۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ صدر مشرف نے خود اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان پر ہونے والا یہ حملہ اسلامی شدت پسندوں کا کام ہو سکتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ان (مشرف) کی امریکہ کی حمایت کے خلاف ہیں۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق اتوار کو ہونے والے یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب صدر مشرف کی گاڑیوں کا قافلہ ابھی ابھی وہاں سے گزرا تھا۔ بعد میں جنرل مشرف نے تصدیق کی کہ اس حملے کا نشانہ وہ خود تھے۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسند مذہبی جماعتوں کی جانب سے ایسے حملے ان کی اصلاحات کی پالیسی پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ تاہم انہوں نے کسی مخصوص جماعت یا گروہ کا نام نہیں لیا۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ صدر مشرف اور ان کے ساتھی دھماکے سے محفوظ رہے ہیں اور انہیں کوئی زک نہیں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار کون ہیں اور کیا اس حملے کا نشانہ جنرل مشرف ہی تھے۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ صدر مشرف کو ایک دہشت گرد حملے کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج سے دو سال پہلے کراچی ایئر پورٹ کے قریب بارود سے بھری ایک کار کے ذریعے صدر مشرف کی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ بارود سے بھری اسی گاڑی کو بعد میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||