BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 September, 2003, 00:13 GMT 04:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف فوج بھیجنے پر تیار
جنرل پرویز مشرف
پاکستان میں رائے عامہ بدلنے کی ضرورت ہے:جنرل مشرف

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان عراق میں فوج بھیجنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ کچھ شرائط پوری ہو جائیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ سلامتی کونسل ایک نئی قراداد بھی منظور کرے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کے بعد نیویارک میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان میں عوامی رائے کو تبدیل کرنے کے لئے کئی چیزوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ فوج جس میں دیگر مسلم ممالک کے فوجی بھی ہوں، عراق بھیجنے کے لئے سلامتی کونسل کی قرارداد منظور ہو جائے تو پاکستان کو اپنی فوجی عراق بھیجنے میں اعتراض نہ ہوگا۔

انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ عراق میں بھیجی جانے والی فوج کے بارے میں یہ تاثر نہ ہو کہ وہ امریکہ کی سالاری میں عراق پر قبضہ کرنے والی فوج کا حصہ ہے۔

جنرل مشرف نے کہا: ’ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہم عراق میں فوج بھیجیں اور انجامِ کار یہ ہو کہ یہ فوج امریکی قبضے کا حصہ بنتے ہوئے نظر آئے۔ ہم چاہتے ہیں ہماری فوج ایک ایسی فوج کا حصہ نظر آئے جو عراقی لوگوں کی بہبود کے لئے وہاں گئی ہے اور جو عراق کی تعمیرِ نو میں شریک ہو رہی ہے۔‘

مبصرین کا نقطۂ نظر
اگر پاکستان عراق میں امن فوج کے اندر اپنے فوجی شامل کردے تو عرب دنیا اور مسلم ممالک میں اس امن فوج کی توقیر بڑھ جائے گی

جنرل مشرف نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر جارج بش سے اس مسئلے پر بات چیت کی ہے اور خود ہندوستانی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی کی بھی صدر بش سے عراق میں فوج روانہ کرنے کے مسئلے پر گفتگو ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں امریکی صدر کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراق فوج بھیجنے سے پیشتر پاکستان کے صدر نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس عمل سے پہلے کچھ مشکلات دور کرنی ہوں گی اور چند شرائط کی تکمیل بھی ضروری ہوگی۔

پاکستان چاہتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور ہونے والی قرارداد کو اچھی طرح دیکھ لے کہ اس کے تحت کثیر ملکی فوج کوکس طرح کے اختیارات ملیں گے۔

موجود صورتِ حال میں پاکستان کی داخلی صورتِ حال اور رائے عامہ عراق میں فوج بھیجنے کے سخت خلاف ہے اور جنرل مشرف نے اپنی اخباری کانفرنس میں یہ بات واضح بھی کی۔ لہذا اس کا بظاہر حل یہ ہے کہ خود عراق پاکستان سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ امن کی بحالی کے لئے عراق میں فوج بھیجے اور پھر دوسرے مسلمان ملک بھی ایسا کریں۔

ادھر برطانیہ کے وزیر ِخارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کو یہ اعتماد نہیں ہے کہ سلامتی کونسل سے منظور ہونے والی کسی قرارداد کے بعد دیگر ممالک سے عراق میں فوج روانہ کرنے کی فوری پیشکش شروع ہو جائےگی۔

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان عراق میں امن فوج کے اندر اپنے فوجی شامل کردے تو عرب دنیا اور مسلم ممالک میں اس امن فوج کی توقیر بڑھ جائے گی اور اسے اپنے جواز کا ثبوت فراہم نہیں کرنا پڑے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد