| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’خطرہ مذہبی انتہا پسند ہیں‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک کو بیرونی طور پر کسی سے خطرہ نہیں ہے بلکہ اصل خطرہ ملک کے اندر موجود انتہاپسند مذہبی قوتوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں موجود ان کم علم اور کوتاہ نظر خودساحتہ مذہبی رہنماؤں سے نمٹنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں جو صرف اپنے اعتقادات کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ وہ اسلام آباد میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ’کوئی بیرونی خطرہ پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، دشمن اندر موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بین الاقوامی انتہاپسند کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جمعرات کو قبائلی علاقوں میں شروع کیے جانے والی فوجی کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جہاں بھی ضروری ہوا وہ طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ وہ پاکستان سے انتہاپسندوں کا صفایا کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اکثریت اعتدال پسند ہے لہذا اس لئے انتہا پسند خودساختہ مذہبی راہنماؤں کو مذہب کی من مانی تشریح کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے جہاں قرآن و سنت سے متصادم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||