| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قتل کی سازش پر دس سال سزا
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے گزشتہ سال صدر مشرف کو کراچی کے دورے کے دوران ہلاک کرنے کی سازش کرنے پر تین ملزمان کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان محمد حنیف، محمد عمران اور محمد اشرف خان کو ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت دی جانے والی زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔ تاہم عدالت نے رینجرز کے انسپکٹر وسیم اختر اور پانچویں ملزم شاررب ارسلان فاروقی کو بری کر دیا ہے۔ ملزمان انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں آخری اپیل سننے کا اختیار سپریم کورٹ کو ہے۔ عدالت کی طرف سے سزا پانے والے تینوں ملزمان کا تعلق حرکت المجاہدین العالمی نامی ایک شدت پسند گروپ سے ہے۔ اس گروپ کو کالعدم تنظیم حرکت المجاہدین کی ایک شاخ کہا جا رہا ہے۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے گزشتہ سال چھبیس اپریل کو صدر مشرف کو کراچی کے دورے کے دوران بم سے اڑانے کی سازش کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||