BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھانے میں چار قتل

تھانے کے اندر قتل کی یہ واردات انتہائی تشویش ناک ہے
تھانے کے اندر قتل کی یہ واردات انتہائی تشویش ناک ہے

پنجاب کے وسطی شہر سرگودھا کے نواح میں پولیس کی جعلی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد نے مقامی تھانے کی حوالات میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کے مقدمہ میں گرفتار تین بھائیوں سمیت چار افراد کو ہلاک کردیا اور فرار ہوگئے۔اس واقع میں ایک حوالاتی بھی زخمی ہو گیا۔

ڈی آئی جی سرگودھا نے بتایا کہ ملزمان پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔ ایک ملزم انسپکٹر بنا ہوا تھا اور دیگر اے ایس آئی اور کانسٹیبل بنےہوۓ تھے۔ انہوں نے عملے کو تھانے کی اچانک انسپکشن کرنے کا دھوکہ دیا تھا۔

ملزمان رات تین بجے کے قریب ایک سفید رنگ کی کار میں تھانے پہنچے۔ کار کو سرکاری گاڑی ظاہر کرنے کے لیے علامت کے طور پر اس کی چھت پر ایک نیلی بتی لگا ئی گئی تھی۔

پولیس اہلکاروں نے دروازہ کھولا تو ملزمان اندر داخل ہوگئے انہوں نے تھانے کے محرر سے کہا کہ وہ ریکارڈ چیک کرنے اور حوالات میں موجود قیدیوں کی گنتی کرنے آۓ ہیں۔

انہوں نے ایک خاص مقدمہ قتل کا حوالہ دیکر محرر سے پوچھا کہ مقدمہ کے ملزمان کہاں ہیں؟۔

محرر نے حوالات کی جانب اشارہ کیا تو ملزمان نے فائرنگ کردی۔جس سے تین بھائی مختار ،ذوالفقار،اور وقار اور ان کا ایک رشتہ دار محمد علی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک قیدی شہباز علی زخمی ہو گیا۔

حوالات میں فائرنگ کے وقت سات افراد موجود تھے جن میں سے دو بچ گئے۔ ملزمان اس ساری کارروائی کے بعد تھانے سےفرار ہوگئے۔

ایس پی ہیڈکواٹر علی احمد صابر کیانی نے بتایا کہ چاروں مقتولین، دو ماہ قبل ہونے والی قتل کی ایک واردات میں گرفتار ہوۓ تھےاور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک شخص عامر وڑائچ کو لین دین کے تنازعہ پر ہلاک کیا ہے۔

اور اب چوہرے قتل کی اس واردات میں عامر وڑائچ کے ایک بھائی کو دیگر ملزمان کے ساتھ نامزد کیا جا رہا ہے ۔

ڈی آئی جی سرگودھا آصف نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ’ اس مقدمہ میں حملہ آور جعلی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ایک اصلی پولیس اہلکار سب انسپکٹر خاور کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہے ۔یہ تھانیدار فیصل آباد میں تعینات تھا لیکن رات سے ہی غائب ہے ۔اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔‘

پولیس کے مطابق دوماہ قبل قتل ہونے والا عامر وڑائچ ایک مقامی پنچائت کا سربراہ بنا تھا اور اس نے تھانے میں قتل ہونے والے افراد کی مرضی کے خلاف لین دین کے ایک تنازعہ کا ایسا فیصلہ کیا تھاجس کے تحت مقتولین کو بھاری رقم کی ادائیگی کرنا تھی ۔

انہوں نے بروقت ادائیگی نہیں کی تودو ماہ قبل عامر وڑائچ مبینہ طور پر ان کے گھر انہیں ڈرانے دھمکانے آیا تھا۔ اس دوران ہونے والی تلخ کلامی کے نتیجہ میں عامر وڑائچ کو قتل کر دیا گیا تھا۔جس کے انتقام میں مبینہ طور پر عامر وڑائچ کے ورثا نے چار افراد کو تھانہ میں گھس کر قتل کیا ہے ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد