BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 September, 2003, 05:02 GMT 09:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بُش:اسلام آباد، دہلی فون
صدر بش

امریکہ کےصدر جارج بُش نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ٹیلی فون پر عراق کی صورحال اور ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ کے بارے میں بات کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر بش نے دونوں رہنماؤں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے میکسیکو میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے لئے راہ ہموار کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا ہے۔

یہ مذاکرات خوبصورت شہر کین کن میں ہو رہے ہیں۔

بھارت میں حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر نے وزیر اعظم واجپئی سے عراق کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی۔

امریکہ بھارت سے اپنے فوجی دستے عراق بھیجنے کی درخواست کر چکا ہے لیکن بھارت کا موقف ہے کہ وہ اپنی فوجیں اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام بین الاقوامی فوج کے حصے کے طور پر بھیجے گا۔

امریکہ پاکستان سے بھی اپنی فوج عراق بھیجنے کی درخواست کر چکا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک افسر نے کہا ہے کہ صدر بُش نے جنرل مشرف کے ساتھ ’دہشت گردی کے خلاف عالمی‘ جنگ میں پاکستان کے کرداد کی تعریف کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر بُش نے صدر مشرف اور وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی کے امریکہ آئندہ دوروں کا بھی ذکر کیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد