BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 December, 2003, 02:53 GMT 07:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مجلس کی احتجاجی تحریک کا آغاز

ایم ایم اے کی قیادت
مجلس عمل کے رہنما پریس کانفرس سے خطاب کر رہے ہیں

متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل نے حکومت کے خلاف احتجاجی مہم کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے تاہم کہا ہےکہ اس دوران اگر حکومت کسی بھی مرحلے پر آئینی پیکج پارلیمان میں لے آۓ گی تو اس تحریک کو رابطہ عوام مہم میں تبدیل کر دیا جاۓ گا۔

مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعرات کو ڈیرہ غازی خان سے جلوس مظفر گڑھ آۓ گا۔اگلے روز جلوس ملتان سے ساہیوال جاۓ گا۔ بیس دسمبر کو لاہور میں ایک احتجاجی جلسہ ہوگا اور کارواں شخوپورہ جاۓ گا جس کے بعد پچیس، چھبیس اور ستائیس دسمبر کو سندھ میں احجاجی جلوس نکالے جائیں گے۔

یہ اعلان مجلس عمل کے رہنماؤں نے بدھ کی شب ایم ایم اے کے اجلاس کے بعد ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

اس پریس کانفرنس میں قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، لیاقت بلوچ، حافظ حسین احمد، پیر اعجاز ہاشمی، اور جنرل کے ایم اظہر بھی موجود تھے۔

مجلس عمل کے رہنماؤں نے اس موقع پر اتحاد براۓ بحالی جمہوریت کو بھی احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کے سابق وزراۓ اعظم میاں نواز شریف اور بے نظیر کو وطن واپس لایا جاۓ اور آصف علی زرداری، مخدوم جاوید ہاشمی اور علامہ ساجد نقوی کو رہا کیا جاۓ۔

قائدین نے کہا کہ انہوں نے اپنی بات حکومت تک پہنچا دی ہے اور اگر حکومت اس ملک گیر احتجاجی تحریک کو روکنا چاہتی ہے تو اس کا صرف یہی طریقہ ہے کہ وہ آئینی بل پارلیمان میں پیش کر دے ۔

متحدہ مجلس عمل کے قائم مقام صدر قاضی حسین احمد نے کہا ہےکہ حکومت ان کی دی گئی مہلت کے دوران آئینی پیکج لانے میں ناکام رہی ہے اس لئے مجلس عمل جمعرات کو ڈیرھ غازی خان سے اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہی ہے جس کا اختتام اسلام آباد میں فیصلہ کن دھرنے کی صورت میں ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس دھرنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

مجلس عمل کے قائم مقام صدر قاضی حسین احمد نے کہا ’ آئینی پیکج کا صدر کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لئے مجلس عمل کی حمائت کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کو سپریم کونسل کے اجلاس میں ایم ایم اے کا قائم مقام صدر منتخب کیا گیا ہے۔

ادھر لاہور میں وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کی صدارت میں امن وامان سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور پنجاب پولیس کے افسران نے شرکت کی۔

صوبائی وزیر قانون نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی سیاسی جلوس کا راستہ روکا جاۓ گا نہ کسی کو جلسہ سے منع کیا جاۓ گا۔ تاہم کسی کو سڑکوں پر ٹریفک بلاک کرنے یا عوام کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد