| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کمشیر پر رعایتیں دینے کے لیے تیار‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن کی خاطر وہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کے مطالبے سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امن کے راستے پر آگے آدھی مسافت طے کرنے کو تیار ہے۔ تقریباً پچاس برس سے پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتا رہا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کشمیر کے لوگوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے تاکہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ شمولیت کا خود فیصلہ کریں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کی رات اپنی رہائش گاہ پر انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے حق میں ہیں تاہم اب وہ انہیں ایک طرف رکھ کر ’لچکدار اور جرآت مندانہ‘ اقدامات کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو چاہئے کہ وہ اپنے طے شدہ موقف کو چھوڑ کر لچک کا مظاہرہ کریں اور بیچ کی راہ اختیار کریں۔ جنرل مشرف نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے دو طرفہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اگلے ماہ علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کا اجلاس بھی اسلام آباد میں ہونے والا ہے جس میں توقع ہے کہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی بھی شریک ہوں گے۔ پاکستانی صدر نے کہا کہ قیام امن کے لئے یہ ایک حقیقی موقع ہے تاہم انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ وہ مذاکرات کی پیشکش کو مسلسل نظرانداز کرکے یہ موقع نہ گنوائے۔ انہوں نےکہا: ’ہر بات کی بنیاد بشمول شدت پسندی میں کمی کی بنیاد بات چیت کے عمل سے ہی آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر سیاسی مذاکرات نہ ہوئے تو نقصان کس کا ہوگا؟ یہ اعتدال پسند ہیں جنہیں شکست ہوگی اور شدت پسند کی جیت ہوگی۔ اور اب تک بالکل یہی ہوتا آیا ہے۔‘ رائٹرز کے مطابق انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے عوام کی توقعات بڑھ چکی ہیں اور اگر دونوں ملکوں کی قیادت ان پر پورا اترنے میں ناکام رہتی ہے یو یہ بڑی بدنصیبی ہوگی۔ تاہم جنرل مشرف نے کہا کہ وہ بھارتی وزیراعظم سے ملنے کے لئے منت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: ’اب گیند ان کے پاس ہے۔ اگر وہ مجھ سے ملنا چاہیں گے تو میں بھی ملوں گا اور اگر وہ نہیں چاہیں گے تو مجھے بھی ان سے ملنے کا شوق نہیں۔‘ انہوں نے بھارت کے لائن آف کنٹرول پر باڑ لگانے کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت فائربندی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ابھی تک ہندوستان کی طرف سے مشرف کے انٹرویو پر کوئی سرکاری ردِ عمل نہیں آیا ہے۔ تاہم وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر باڑ لگانے کے متعلق پاکستانی اعتراض بالکل بے بنیاد ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کام دونوں ممالک کی طرف سے ایل او سی پر جنگ بندی کے فیصلے سے پہلے بھی جاری تھا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سرحد پار سے ملک میں گھسنے والے لوگوں نے ہندوستان کو باڑ لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||