| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوج میں اہم تبدیلیاں
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے فوج کے چیف آف سٹاف اور ملٹری انٹلیجنس کے سربراہ سمیت پاکستانی فوج کی قیادت میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ حالانکہ فوجی حکام نے ان تبدیلیوں کو معمول کا سلسلہ قرار دیا ہے، مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلیاں بہت اہم ہیں۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق ملٹری انٹلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل طارق مجید کو ترقی دے کر لفٹننٹ جنرل کا عہدہ دے دیا گیا ہے اور انہیں فوج کا نیا چیف آف سٹاف یا سی جی ایس مقرر کیا گیا ہے۔ اس عہدے کو فوج کے سربراہ کے بعد سب سے اہم عہدہ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ سی جی ایس لفٹننٹ جنرل شاہد عزیز کو لاہور کا کور کمانڈر بنایا گیا ہے۔ وہ لفٹننٹ جنرل زرار عظیم کی جگہ لیں گے جنہیں فوج کے صدر دفتر یا جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ٹریننگ اور اِویلویشن کا انسپکٹر جنرل بنایا گیا ہے۔ جنرل مشرف کے ملٹری سیکرٹری ندیم تاج کو ملٹری انٹلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل کے اہم عہدے پر فائز کر دیا گیا ہے۔ جنرل مشرف کے نئے ملٹری سیکرٹری میجر جنرل شفاعت اللہ شاہ ہونگے۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے چیئرمین لفٹننٹ عبدالقیوم جنوری میں ریٹائر ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ میجر جنرل محمد جاوید تقرر کیے جائیں گے۔ حالانکہ اس طرح کے اعلانات سے ملک میں ان تقرریوں کی اہمیت پر قیاس آرائیاں ضرور ہونگی، حکام نے کہا ہے کہ یہ معمول کی ترقیوں اور تقرریوں کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلیاں جنرل مشرف پر حال ہی میں ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے کے تناظر میں اہم ہو سکتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||