| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مفاہمت کی کوششیں ناکام؟
حکومت کی جانب سے آئینی ترامیم یا ایل ایف او کے مسئلے پر حزب اختلاف کے بڑے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ’برف پگھلانے‘ کی ایک اور کوشش بظاہر ناکام ہوگئی ہے۔ اتحاد کے قائم مقام سربراہ اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ایس ایم ظفر خصوصی طور پر سوموار کے روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد سے پشاور ان سے اس بحران کے حل پر بات چیت کے لئے پہنچے۔ بظاہر اس کوشش کا مقصد ایم ایم اے کو صدر پرویز مشرف کو اعتماد کا ووٹ دینے پر راضی کرنے کی ایک کوشش تھی۔ البتہ دوسری جانب ایم ایم اے اپنے موقف پر بدستور قائم ہے۔ قاضی حسین احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے صدر کو اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کیا ہوا ہے۔ ’ہم صدر کی پالیسیوں کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کو ووٹ نہیں دے سکتے لہذا اعتماد کے ووٹ والے روز ہمارے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان غیر حاضر رہیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمان میں حکومت متفقہ آئینی پیکج پیش کرے گی تو وہ اس کی تائید کریں گے۔ اس سے قبل قاضی حسین احمد نے سوموار کے روز پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں ایک مرتبہ پھر حکومت پر یہ بات واضع کرنے کی کوشش کی کہ سترہ دسمبر تک اس کی جانب سے پارلیمان میں آئینی پیکج پیش نہ کرنے کی صورت میں وہ اگلے روز سے ملک گیر احتجاج شروع کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس پرامن تحریک کے لئے جس کا آغاز ملتان سے کیا جائے گا تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ جماعت اسلامی کے سربراہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں سترہ دسمبر کو اتحاد کا سربراہی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||