| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت مخالف تحریک شروع
اتحاد برائے بحالئی جمہوریت یا اے آر ڈی نےگوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ میں ایک جسلہ عام کرکے حکومت کے خلاف اپنی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے جلسے سے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جلسہ غیر جمہوری قوتوں کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ اے آر ڈی کے جلسہ میں حکومت اور پرویز مشرف کے خلاف اور بے نظیر اور نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی گئی ۔ تقریباً تمام مقررین نے حکومت پر تنقید کے علاوہ مجلس عمل کی حکومت سے کسی ممکنہ ڈیل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ جسلہ عام میں میاں نواز شریف کا ایک بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے حکومت پر تنقید کی اور عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا کہا ۔ اے آر ڈی کا اگلا جلسہ اکیس دسمبر کو کراچی میں ہوگا جہاں ایک اجلاس میں آئندہ جلسوں کا شیڈول طے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چوبیس دسمبر کو ملک بھر میں احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔ اس جلسہ عام میں اے آرڈی میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی جن میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے مخدوم امین فہیم، مسلم لیگ (ن) کے سردار ذولفقار علی کھوسہ، بیگم تہمینہ دولتانہ، قاسم ضیاء، خواجہ سعد رفیق، نوابزادہ منصور علی خان اور نوید چودھری شامل تھے۔ مخدوم امین فہیم نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ آئین میں نظریہ ضرورت کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ آئین کو توڑنے کی سزا ہے جس پر عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایل ایف او کو بحال کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ حزب اختلاف کے ایک دوسرے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو اس معاملہ پر حکومت سے کوئی ڈیل نہیں کرنی چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے کہا کہ ایل ایف او پر ڈیل مجلس عمل کو بےعمل بنا کر رکھ دے گی۔انہوں نے کہا کہ ایل ایف او ہر طالع آزما کو کھل کھیلنے کا موقع دے گا۔ اس جلسہ میں شرکت کے لیے لاہور سمیت مختلف شہروں سے قافلے پہنچے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||