| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی مالیاتی ایوارڈ مار چ میں
وفاقی وزیر خزانہ شوکت عزیز نے کہا ہے کہ نیا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اکتیس مارچ تک آ جائے گا جس کے لیے صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی آمدنی اور اخراجات کے بارے میں اگلے سال دو جنوری تک قومی مالیاتی ایوارڈ کے سیکریٹریٹ کو آگاہ کردیں۔ سنیچر کو روز لاہور میں ایوان وزیراعلی میں قومی مالیاتی ایوارڈ کے سلسلہ میں اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزراء نے اپنے صوبوں کی نمائندگی کی۔ شوکت عزیز نے اجلاس کے اختتام پر صحافیوں کو بتایا کہ آج اجلاس میں صوبوں کے وسائل، آمدن اور اخراجات پر غور کیا گیا او فیصلہ کیا گیا کہ تمام صوبے اپنی اپنی پانچ سال کی ضروریات کے تخمینے وفاقی وزارت حزانہ میں قائم این ایف سی سیکریٹیریٹ کو مہیا کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جائے گا تاہم انہوں نے اضافے کی تفصیلات نہیں بتاسکتے۔ انھوں نے بتایا کہ آج ایجنڈے پر بلوچستان اور سندھ کے درمیان قدرتی گیس کی فروخت پر حاصل ہوے والے محصولات کے جھگڑے کا معاملہ بھی شامل تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملہ کو حل کرنے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ سندھ اور بلوچستان کے وزرائے حزانہ مل کر بات چیت سے کوئی تصفیہ کریں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پن بجلی کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کے حوالے سے سرحد اور واپڈا کے درمیان تنازع ہے جو قومی مالیاتی ایوارڈ کا حصہ نہیں ہے لیکن اس لیے اہم ہے کہ جب تک کسی صوبہ کو اپنے وسائل کا علم نہیں ہوتا وہ اپنے اخراجات اور آمدنی کا تخمینہ نہیں لگا سکتا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پن بجلی کے منافع کا معاملہ قومی مالیاتی ایوارڈ کے ساتھ ساتھ چلے گا تاکہ اسے نمٹایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی وزارت خزانہ اس حل کرنے کے لیے سرحد کی صوبائی وزارت خزانہ اور واپڈا کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مقررہ تاریخ اکتیس مارچ سنہ دو ہزار چار تک آجاے گا جو تمام صوبوں اور وفاق کو یکساں طور پر مطمئن کرے گا۔ قومی مالیاتی کمیشن کا آئندہ اجلاس دو جنوری کو اسلام آباد میں ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||