| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ایل ایف او آئین کیلئے بلا ہے‘
اتحاد براۓ بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ لیگل فریم ورک آرڈر پر متحدہ مجلس عمل اور حکومت کے کسی متفقہ آئینی ترمیم کے بل کی مخالفت کرے گی اور جب بھی موقع ملا اسے آئین سے نکال دے گی۔ ہفتے کو لاہور میں سربراہی اجلاس کے بعد اے آر ڈی کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اتحاد نے اس عہد کی تجدید کی ہے کہ وہ جنرل مشرف کی طرف سے آئین میں کی گئی ترامیم (ایل ایف او) کو مسترد کرتا ہے اور اسے یہ تبدیلیاں کسی صورت میں یہ قابل قبول نہیں۔ امین فہیم نے کہا کہ اگر مجلس عمل اور حکومت کے اشتراک سے انہیں دو تہائی اکثریت مل جاتی ہے اور وہ بل کی صورت میں ایل ایف او کو پارلیمنٹ سے منظور کرالیتے ہیں تو اے آر ڈی کی جماعتوں کو جب بھی موقع ملے گا وہ اسے آئین سے ختم کردیں گی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی فرد یا ادارہ جس میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے آئین میں ترمیم نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ ایل ایف ایک بلا ہے اور یہ آئین میں گھس گئی تو پاکستان کے وفاق کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ اے آر ڈی کے سربراہ نے کہا کہ ایل ایف او کے تحت قومی سلامتی کونسل کا قیام آئین کو پارلیمانی طرز سے صدارتی طرز کی طرف لے جاۓ گا اور اے آر ڈی اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ تاہم ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر پارلیمینٹ میں ایل ایف او کے تحت عورتوں کی مخصوص نشستیں اور ووٹر کی عمر میں کمی جیسے معاملات پر بل آیا تو چونکہ یہ باتیں اے آر ڈی کے مطالبات کے مطابق ہیں اس لیے وہ ان نکات کی مخالفت نہیں کرے گی۔ امین فہیم نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور متحدہ مجلس عمل پورے ایل ایف او یا اس کے کچھ متنازعہ حصے پارلیمنٹ میں لاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کہہ چکی ہے ایل ایف او آئین کا حصہ ہے اور اب اگر اسے بل کی صورت میں لایا گیا تو یہ پہلے موقف کی نفی ہوگا۔ دوسری طرف ، امین فہیم نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل نے اگر ایل ایف او کے صرف متنازعہ حصوں پر ترامیم کے بل پر اتفاق کیا تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے ایل ایف او کی بقیہ ترامیم کو پارلیمینٹ سے منظوری کے بغیر تسلیم کرلیا جو اس موقف کی نفی ہوگا جس کا وہ اب تک اظہار کرتی آئی ہے اور جس کا عہد اس نے ملین مارچ میں عوام سے کیا تھا۔ ہندوستان سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات پر اے آر ڈی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان دو مختلف رویے اور موقف دیکھنے میں آۓ۔ اے آر ڈی کی پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) نے حکومت کے حالیہ تمام اقدامات پر سخت تنقید کی اور تشویش کا اظہار کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ انہیں اس معاملہ پر صرف حکومت کے طریقہ کار سے اختلاف ہے۔ اے آر ڈی کے سربراہ اور پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم نے اسلام آباد میں غوری میزائل کے ماڈل گراۓ جانے پر ہلکی سی تنقید کی اور کہا کہ یہ گھبرا کر کیا جارہا ہے جبکہ جب ہمارے لوگ ہندوستان جاتے ہیں تو وہاں تو ایسا کچھ نہیں کیا جاتا یہ لوگ خوامخواہ جھک جاتے ہیں۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی تہمینہ دولتانہ اور سعد رفیق نے جنرل مشرف پر ہندوستان سے تعلقات کے ضمن میں کیے جانے والے اقدامات پر خاصی زوردار تنقید کی اور کہا کہ خدشہ ہے کہ سیز فائر سے لائن آف کنٹرول پر ہندوستان جو باڑ لگا رہا ہے اس سے یہ مستقل سرحد بن جاۓ گی۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے کہا کہ جنرل مشرف ہندوستان سے تعلقات بنانے کے لیے عجلت اور بزدلی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے قاسم ضیا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ بے نطیر بھٹو نے ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایسی باتوں کی تجویز دی تھی لیکن جنرل مشرف جس طریقہ سے کام کررہے ہیں انہیں ان پر اعتراض ہے۔ امین فہیم نے اعلان کیا کہ اے آر ڈی چودہ دسمبر کو گوجرانوالہ میں اور اکیس دسمبر کو کراچی میں جلسے کرے گی اور مہنگائی ، بے روز گاری ، امن و امان کی خراب صورتحال اور ایٹمی سائنس دانوں کی گرفتاری جیسے معاملات پر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر اس مہینے کی انیس، چوبیس اور انتیس دسمبر کو احتجاجی کیمپ لگاۓ گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||