| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات سے تحریک کا آغاز ہوگا
پاکستان میں حزب اختلاف کے ایک بڑے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے کہا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے خلاف اٹھارہ دسمبر سے اپنی احتجاجی تحریک شروع کرنے کے فیصلہ پر قائم ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان آئین میں ترامیم یعنی ایل ایف او کے تنازعہ پر بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو مفاہمت کے ذریعے جلد حل کر لے گی جبکہ حزب اختلاف احتجاج کی راہ اپنانے کی دھمکیاں دے کر بظاہر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے قائم مقام سربراہ اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے سوموار کے روز پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں ایک مرتبہ پھر حکومت پر یہ بات واضع کرنے کی کوشش کی کہ سترہ دسمبر تک اس کی جانب سے پارلیمان میں آئینی پیکج پیش نہ کرنے کی صورت میں وہ اگلے روز سے ملک گیر احتجاج شروع کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے اس پرامن تحریک کے لئے جس کا آغاز ملتان سے کیا جائے گا تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ جماعت اسلامی کے سربراہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں سترہ دسمبر کو اتحاد کا سربراہی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ اسلام آباد تک لانگ مارچ کی کال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی ضرورت اگر احتجاجی تحریک کے دوران پڑی تو دے دی جائے گی البتہ اس کے دوران وزیراعظم ہاوس کا گھیراو نہیں کیا جائے گا۔ قاضی حسین نے اخباری اطلاعات میں سوموار کے روز اسلام آباد میں حمکراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ ایل ایف او پر متوقع مذاکرات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ صدام حسین کی گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس سے عراقیوں کی امریکہ مخالف تحریک ختم نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق اس سے تحریک میں شدت پیدا ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||