| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجلس کی حکومت مخالف تحریک
حزب اختلاف میں شامل دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اٹھارہ دسمبر سے ملک بھر میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات ایم ایم اے کی بڑی پارٹی جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں جماعت اسلامی ضلع پشاور کی جانب سے عید ملن پارٹی میں شرکت کے موقعہ پر کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سترہ دسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے جس کے دوسرے روز یہ تحریک شروع کر دی جائے گی۔ تحریک کے لئے منصوبہ بندی کی غرض سے قائم کی گئی سٹیرنگ کمیٹی کا اس مقصد کے لئے اجلاس تین دسمبر کو طلب کیا گیا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو فوجی وردی دسمبر دوہزار چار تک اتارنی ہوگی کیونکہ کوئی سرکاری ملازم صدر اور فوجی جرنیل ایک ساتھ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایل ایف او کی متنازعہ شقوں پر اتفاق رائے حاصل ہوچکا ہے اور قومی سلامتی کونسل کو رد کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان نکات کی پارلیمان سے منظوری لی جائے گی۔ صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت کا ذکر کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بغیر صوبے میں شریعت نافذ نہیں کی جاسکتی کیونکہ اختیارات اور وسائل دونوں پر اس کا قبضہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||