BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 December, 2003, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاضی: آئینی پیکیج پر اتفاق

متفقہ آئینی پیکج آٹھارہ دسمبر تک پارلیمان پیش ہونے پر کا امکان
متفقہ آئینی پیکج آٹھارہ دسمبر تک پارلیمان پیش ہونے پر کا امکان

متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر قاضی حسن احمد نے کہا ہے کہ حکومت اور مجلس عمل کے مابین ایک آئینی پیکیج پر مفاہمت ہو چکی ہے جس کے تحت صدر جنرل مشرف دسمبر دو ہزار چار تک چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ اپنے پاس رکھیں گے۔

تاہم انہوں نے کہا ہے کہ یہ آئینی پیکیج انہوں نے وسیع تر قومی مفاد میں تسلیم کیا ہے ۔ وہ سنیچر کی شام مولانا موددی کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوۓ کہی۔

انہوں نے کہا کہ آئینی پیکیج میں یہ لکھا جاۓ گا کہ صدر دسمبر دو ہزار چار تک ایک عہدہ چھوڑ دیں ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے قبل ہی ایک عہدہ چھوڑ دیں لیکن دسمبر دو ہزار چار کے بعد ان پر یہ لازم ہو جاۓ گا کہ وہ ایک عہدہ چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر کو وردی کے مسئلہ پر دسمبر دو ہزار چار تک مہلت دے کر ہم نے ملک کے وسیع تر مفاد میں مفاہمت کی ہے۔انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ صدر کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے انہیں سادہ اکثریت درکار ہے جو حکومت کو حاصل ہے اورانہیں مجلس عمل کی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی مجلس اس معاملہ میں ان کو ووٹ دے گی ۔

انہوں نے کہا کہ آئنی پیکیج کی پارلیمان سے منظوری کے لیے انہیں ایک تہائی ووٹ کی ضرورت ہے ۔اور اگر طے شدہ آئینی پیکیج پارلیمان میں پیش کر دیا گیا تو وہ صرف اس معاملہ کی حد تک حکومت کا ساتھ دیں گے اور مجلس عمل اپنا حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی رہےگی ۔

تاہم انہیں اس بات کا مکمل یقین نہیں تھا کہ حکومت ایل ایف او پر منظور شدہ بل کو اٹھارہ دسمبر سے قبل ایوان میں پیش کر دے گی۔

انہوں نے مجلس عمل کے اس موقف کو دہرایا کہ حکومت اس آئینی پیکیج کو پارلیمان میں پیش کرے اور اگر حکومت نے آئینی بل پارلیمان میں پیش نہ کیا تو مجلس عمل اٹھارہ دسمبر سے اپنی تحریک کا آغاز کر دے گی ۔

گزشتہ روز صدر پرویز مشرف نے ایف سی کالج میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوۓ کہا تھا کہ بالآخر آئینی پیکیج پارلیمان میں آۓ گا اور سب کچھ طے ہو جاۓ گا۔ اعتماد کے ووٹ کے بارے میں قاضی حسین کے انکار پر انہوں نے کسی تبصرہ سے انکار کردیا تھااور کہا کہ اس معاملہ پر چونکہ مجلس عمل سے بات جاری ہے اس لیے وہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملہ پر کوئی تعطل نہیں ہے اور معمولی معاملات رہ گئے ہیں جن پر بات ہوجاۓ گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملہ کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

قبل ازیں ایل ایف او پر مذاکرات کے سلسلہ میں لاہور میں مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر ایم ایم کے سیکرٹری جنرل قاضی حسین احمد اور وزیر اعلی سرحد اکرم درانی نے ان سے ملاقات کی اور

آئینی پیکیج کے حوالے سے بات چیت کی ۔

مبصرین نے کہا ہے کہ اگرچہ حکومتی عہدیدار کافی عرصہ سے اس بات کا اعلان کر رہے تھے کہ ایل ایف او پر مجلس عمل سے مفاہمت ہو چکی ہے لیکن مجلس عمل کی جانب سے قاضی حسین احمد کا یہ بیان پہلی بار حکومت کے اس دعویٰ کی کسی حد تک تصدیق کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

مبصرین کے مطابق آئینی پیکیج پارلیمان میں پیش کئے جانے کے بارے میں مجلس عمل کی طرف سےدی گئی ڈیڈ لائن میں دس روز کا قلیل وقت رہ گیا ہے اتوار کو وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی فرانس کے دورے پر روانہ ہوگئےہیں ۔ ابھی تک پارلیان کا اجلاس بلایا گیا نہ اس کے بلاۓ جانے کے لیے کسی تاریخ کا علان کیا گیا ۔

حزب اختلاف کے دوسرے بڑے اتحاداے آر ڈی کے رہنما بدستور اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ وہ ایک روز کے لیے بھی باوردی صدر کو قبول نہیں کرتے اورایسا کیا جانا دراصل جمہوریت کی روح کے منافی ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد