| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قاضی انور سیاست سے دستبردار
صوبہ سرحد کے بزرگ سیاستدان اور ممتاز قانون دان قاضی محمد انور نے اتوار کے روز صوبائی دارالحکومت پشاور میں سیاست سے گوشہ نشینی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ پاکستان بھر کے وکلاء کی متنازعہ ایل ایف او کے خلاف تحریک کی سربراہی کرنے والے ہیں اس لئے ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ سیاست کو خیرآباد کہہ دیں۔ پشاور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قاضی محمد انور نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا فوکس ایل ایف او نہیں ہے اور وہ اسے اس پر مجبور نہیں کر سکتے لہذا انہوں نے اس لڑائی کو وکلاء کے پلیٹ فارم سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اب کسی دوسری سیاسی جماعت سے کبھی وابستہ نہیں ہونگے اور سیاست چھوڑنے کا ان کا فیصلہ حتمی ہے۔ چونسٹھ سالہ قاضی محمد انور نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انیس سو انہتر میں پیپلز پارٹی میں شمولیت سے کیا تھا۔ اس دوران وہ کئی اہم جماعتی عہدوں پر فائز رہے۔ لیکن انیس سو چورانوے میں پیپلز پارٹی کے سرحد میں اسمبلی توڑنے کے فیصلے کے خلاف بطور احتجاج انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی جس کے ساتھ وہ ابھی تک وابستہ رہے۔
قاضی انور جماعت کے تین عہدوں مرکزی ایڈیشنل سیکٹری جنرل، پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین اور کالا باغ ڈیم پر قائم دستاویزات کمیٹی کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے اے این پی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے انہیں بہت عزت دی ہے۔ البتہ انہوں نے واضع کیا کہ وہ اپنی سیاسی زندگی کے بارے میں کوئی یاداشتیں تحریر نہیں کریں گے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے بہت لوگ ناراض ہوجائیں گے۔ وکیلوں کے ایل ایف او کے خلاف احتجاج کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے انکی جائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے کہا کہ تیرا اکتوبر کو وہ لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کریں گے اور دوسرے روز وفاقی دارالحکومت میں وکلا کا ایک ملک گیر کنونشن بھی منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایل ایف او ملک کے لئے ایک خطرہ ہے۔ قاضی انور نے کہا کہ اب باقی ماندہ زندگی وہ پشاور میں ایک گردے کا ہسپتال تعمیر کرنے کی کوشش میں گزاریں گے جس کے لئے انہوں نے اپنے تمام اثاثے وقف کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |