BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 October, 2004, 09:57 GMT 14:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وردی کے حق میں بل منظور

صدر مشرف کی وردی کے بارے میں بل پر خواتین ارکان کا احتجاج
صدر مشرف کی وردی کے بارے میں بل پر خواتین ارکان کا احتجاج
حکومت نے قومی اسمبلی سے صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے دوران اکثریت رائے سے منظور کرا لیا ہے۔ حزب اختلاف نے سپیکر پر قوائد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی ہے۔

جمعرات کی صبح اجلاس شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے بعد بل پر بحث ابھی باقی تھی کہ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے سپیکر چودھری امیر حسین سے کہا کہ بہت تقریریں ہوچکیں اب وہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل پر کارروائی شروع کریں۔

سپیکر نے دوسری اور تیسری خواندگی چند منٹ میں مکمل کراتے ہوئے بل منظور کرنے کی تحریک پیش کی جو اکثریت رائے سے منظور ہوگئی۔

محمود خان اچکزئی اور اعتزاز احسن سمیت سینیئر پارلیمینٹیرین بھی سپیکر کے اس رویے پر شدید برہم ہوگئے۔ اچکزئی سپیکر کے ڈائیس پر پہنچ گئے اور ان کے آگے رکھا ہوا پی ٹی وی کا مائیک گرا دیا۔

حزب اختلاف نے بل کی منظوری کی مکمل کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا لیکن سپیکر نے ان کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

News image
متحدہ مجلس عمل نے سترہویں ترمیم کی حمایت کی تھی

حزب اختلاف کے تمام اراکین سپیکر کے جلد بازی میں بل منظور کرانے کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگاتے رہے اور سپیکر کو بھی برا بھلا کہتے رہے۔

حزب مخالف کے اراکین دیکھتے ہی دیکھتے نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے آگے جمع ہوگئے اور سخت نعرے بازی کرتے رہے۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے الزام لگایا کہ سپیکر نے انتہائی جانبداری کا ثبوت دیا اور قواعد کی خلاف ورزی بھی کی ہے لہٰذا متحدہ حزب اختلاف نے سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے۔

تحریک پیش کرنے کے لیے 86 اراکین کے دستخط لازمی ہوتے ہیں لیکن اس تحریک پر 104 دستخط ہیں۔ یاد رہے کہ سپیکر کے خلاف پہلے بھی تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی جو مسترد ہوگئی تھی۔

قومی اسمبلی سے منظور کردہ یہ بل اب ستائیس اکتوبر کو طلب کردہ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد جب صدر جنرل پرویز مشرف اس بل پر دستخط کریں گے تو یہ ایکٹ آف پارلیمینٹ بن جائے گا اور جب تک صدر کے عہدے پر جنرل پرویز مشرف ہیں اس وقت تک وہ آرمی چیف کا عہدہ بھی رکھ پائیں گے۔ یہ قانون اکتیس دسمبر 2004 سے نافذ العمل ہوگا۔

واضح رہے کہ حکومت اور متحدہ مجلس عمل میں ہونےوالے سمجھوتے کے نتیجے میں سترویں آئینی ترمیم منظور ہوئی تھی اور اکتیس دسمبر 2004 تک جنرل پرویز مشرف کو باوردی آئینی صدر تسلیم کر لیا گیا تھا۔

معاہدے کے بعد قوم سے خطاب میں جنرل مشرف نے مقررہ مدت تک وردی اتارنے کا اعلان کیا تھا لیکن اب حکمران جماعت کہتی ہے کہ ملکی مفاد میں صدر وردی نہ اتاریں۔

حکومت نے یہ بل اکتیس دسمبر کے بعد بھی صدر کے وردی میں رہنے کے لیے منظور کرایا ہے۔

سپیکر نے اجلاس کی کارروائی جمعہ کی صبح تک ملتوی کر دی جس کے بعد حزب اختلاف کے اراکین ایوان سے باہر پارلیمینٹ کی عمارت کے صدر دروازے پر جمع ہوگئے اور راستہ بلاک کر دیا۔ جس کی وجہ سے انتظامیہ کو متبادل راستے کھولنے پڑے۔

پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس موقع پر’چاروں صوبوں کی زنجیر بینظیر‘ جبکہ حزب اختلاف کے دیگر اراکین نے ’الوداع جنرل مشرف الوداع‘ اور گو سپیکر گو کے نعرے لگائے۔

اس موقع پر حافظ حسین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ جمعہ کی صبح پارلیمینٹ ہاؤس میں مجلس عمل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے علیحدہ علیحدہ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس ہوں گے جس کے بعد مشترکہ اجلاس میں سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بارے میں حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

حکومت نے یہ بل بدھ کی شام شیڈول سے ہٹ کر اچانک قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر منظور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن حزب اختلاف کی جانب سے شدید احتجاج کی وجہ سے بل منظور نہیں ہوسکا اور اجلاس کی کارروائی جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔

ایک موقع پر جب مجلس عمل کے اراکین روسٹرم کے آگے احتجاج کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید احمد شاہ نے انہیں کہا تھا کہ وہ نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کریں۔ جس پر خافظ حسین احمد اور خورشید شاہ کے درمیاں کھینچا تانی اور گرما گرمی اور تلخی بھی ہوئی تھی لیکن بعد میں حافظ حسین احمد اور مجلس عمل کے دیگر رہنماؤں نے خورشید شاہ سے معذرت کر لی تھی۔

حزب اختلاف کے رکن اسمبلی چودھری اعتزاز احسن نے بدھ کے روز اپنی تقریر میں اس بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارلیمان کے وقار کو مجروح نہ کریں۔ جبکہ قاضی حسین احمد نے کہا تھا کہ انہوں نے فوج کو سیاست سے نکالنے کے لیے واپسی کا محفوظ راستہ دینے کے لیے سمجھوتہ کیا لیکن انہیں آج افسوس ہو رہا ہے جب صدر جنرل پرویز مشرف وعدے پر عمل کرتے ہوئے وردی نہیں اتار رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد