صدارت کے ساتھ وردی کا بل پیش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کی شام کو پاکستانی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے شدید احتجاج کے دوران حکومت نے ایک بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جس کی منظوری سے صدر جنرل پرویز مشرف کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ اکتیس دسمبر سن دوہزار چار کے بعد بھی دو عہدوں پر فائز رہ سکیں گے۔ سپیکر اب یہ بل ایوان کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیجیں گے اور کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ایوان میں اس پر بحث ہوگی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ بل پچیس اکتوبر تک منظور کرالے کیونکہ تاحال طے شدہ شیڈول کے مطابق چھبیس اکتوبر کو اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا اور ستائیس اکتوبر کو سینیٹ کا اجلاس شروع ہوگا۔ اس بل کے متن میں حکومت نے اس کا مقصد بتاتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اور عالمی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے دہشت گردی اور تخریب کاری کا مقابلہ کرنے، ملکی وعلاقائی سالمیت، جمہوریت کے استحکام، عوامی فلاح کی اصلاحات جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ صدر کی جب تک بطور صدر مدت ہے اس وقت تک وہ چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ بھی ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ حزب اختلاف کی مذہبی جماعتوں کے ’اتحادمتحدہ مجلس عمل‘ کےساتھ حکومتی سمجہوتے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر دوہزار چار تک فوجی وردی اتار دیں گے لیکن اب وہ آرمی چیف کا عہدہ بھی ساتھ رکھنا چاہتے ہیں جس کے لیے یہ بل پیش کیا گیا ہے۔ جمعہ کی شام کو مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے جب ڈپٹی سپیکر سردار یعقوب کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے کئی اراکین نکتہ اعتراض پر بولنے کے لیے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور مطالبہ کیا کہ ملتان اور سیالکوٹ میں حالیہ بم دھماکوں کے متعلق ان کی تحاریک التوا پر ایجنڈا معطل کرکے بحث کرائی جائے۔ ڈپٹی سپیکر نے جب اجازت نہیں دی تو حزب اختلاف کی رکن تہمینہ دولتانہ نے سپیکر کے روسٹرم کے سامنے آ کر احتجاج کیا۔ اس دوران پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف کو بولنے کی اجازت ملی اور انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بیسیوں بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں اور حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایوان میں ضابطے کی کارروائی معطل کرکے امن امان کی صورتحال پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وہ امن و امان کی صورتحال پر بحث کرانے کے لیے تیار ہیں اور اس ضمن میں ایجنڈے پر حکومت کی تحریک موجود ہے لیکن حزب اختلاف نے اعتراض کیا کہ حکومت نہیں بلکہ حزب اختلاف کی تحاریک پر بحث کی جائے۔ ڈپٹی سپیکر نے ان کا موقف رد کرتے ہوئے ایجنڈے کے مطابق کارروائی جاری رکھی جس پر حزب اختلاف کے بیشتر اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر شدید احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگاتے رہے۔ حزب اختلاف کے شور و غل کے دوران وزیر قانون وصی ظفر نے صدر کو دو عہدے رکھنے کے متعلق بل ایوان میں پیش کیا۔ جبکہ وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے ملک میں میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے متعلق آرڈیننس میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ بل پیش کرنے کے بعد ملک میں امن امان کی صورتحال پر بحث شروع کرائی گئی۔ مولانا فضل الرحمٰن، اعتزاز احسن اور چودھری نثار علی خان سمیت کئی اراکین نے ملک میں امن امان کی صورتحال برقرار رکھنے میں حکومت پر ناکامی کا الزام لگایا۔ حزب اختلاف کے بعض اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت نے بدامنی کا بہانہ بنا کر ملک بھر میں اجتماعات اور جلسے جلوسوں پر جو پابندی عاید کی ہے اس کا مقصد سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانا ہے۔ حزب اختلاف کے اراکین نے کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اب جب وردی کا معاملہ آرہا ہے اور اس پر تحریک چلانے کی بات ہو رہی ہے اس وقت یہ دھماکے ہوئے ہیں اور فوری طور پر حکومت نے جلسے جلوسوں پر پابندی عائد کردی اور یہ سب کچھ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہوں؟ حکومت کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے حزب اختلاف کے الزامات اور خدشات کو بے بنیاد قرار دیا۔ بحث ابھی جاری تھی کہ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||