صدر کی وردی پر سینٹ میں احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صدر جنرل پرویز مشرف کے فوجی وردی میں رہنے کے متعلق حکومتی بیانات کے خلاف حزب اختلاف کے احتجاج کی گونج قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا سینیٹ میں بھی جمعہ کے روز سنائی دی۔ جمعہ کی صبح قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس ساتھ ساتھ منعقد ہوئے لیکن وردی کے معاملے پر احتجاج سینیٹ میں کیا گیا۔ سینیٹر صفدر عباسی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیراعظم اور وزراء کے صدر کے وردی میں رہنے کے متعلق بیانات آئین کی خلاف ورزی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے جب انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی تو حزب احتلاف کے اراکین نے احتجاجی طور پر علامتی واک آؤٹ کیا۔ سینیٹ کے اجلاس میں جہاں صدر کی وردی پر احتجاج ہوا وہاں بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی کارروائی کے معاملے کے بارے میں تحریک التواء پر قواعد معطل کرکے بحث کرائی گئی۔ سینٹر اسلم بلیدی نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں اسٹیبلشمینٹ خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ معصوم بلوچ خواتین اور بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور کئی سیاسی کارکنوں کو ٹارچر سیلوں میں قید رکھا گیا ہے۔انہوں نے بلوچی زبان کا شعر بھی پڑھا جس کا مطلب تھا’حق کی بات کہوں گا خاموش نہیں رہوں گا‘۔ ثناءاللہ بلوچ اور امان اللہ کنرانی نے کہا کہ بلوچستان اگر گیس کی پائپ لائن بند کردے تو نقصان پنجاب کی صنعتوں کا ہوگا۔ انہوں نے بھی اسٹیبلشمینٹ پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ ان کے مسائل کا حل صوبائی خود مختاری میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو کچل کر ان کے وسائل پر وفاق قابض نہیں ہوسکتا۔ فرحت اللہ بابر نے الزام لگایا کہ جس طرح ماضی میں فوجی سربراہ زمینوں کی بندر بانٹ کرتے رہے ہیں ویسے ہی جنرل پرویز مشرف نے بھی ’گوادر اتھارٹی، کے متعلق پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر صدارتی حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی چھاؤنیوں کے بجائے سکول اور ہسپتال بنائے جائیں بلوچ کبھی مخالفت نہیں کریں گے۔ سینیٹ میں جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں اور ان میں استعمال ہونے والی اشیاء اور آلات کی برآمدگی پر ضابطے کے لیے بل بھی حکومت نے پیش کیا۔ یہ بل ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ سینیٹ کا اجلاس حکومت اور حزب اختلاف کی مشاورت کے بعد معمول سے ہٹ کر سنیچر کی صبح تک ملتوی کردیا گیا جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام کو دوبارہ ہوگا۔ عام طور پر سنیچر کو اجلاس نہیں ہوتا لیکن لگتا ہے کہ حکومت جوہری مواد کی برآمدگی کے بارے میں بل منظور کرانا چاہتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||