’پاکستانی عوام مایوس ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے ایک امریکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت چاہتی ہے کہ وہ وردی نہ اتاریں تاہم انہوں نے ابھی اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ادھر حزب اختلاف کے رہنما آئے دن دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر صدر پرویز مشرف نے اس سال کے اختتام تک حسب وعدہ وردی نہیں اتاری تو وہ ان کے خلاف تحریک چلانے کے لئے عوام سے رابطہ کریں گے۔ ادھر عوام کا عالم یہ ہے کہ وہ آئے دن کے ان تماشوں سے کچھ اکتا سے گئے ہیں، یوں لگتا ہے کہ انہیں نہ حزب اقتدار پر اعتبار رہا ہے نہ حزب اختلاف پر۔ وہ کچھ لاتعلق سے ہوگئے ہیں، نہ اب کسی بات پر ناراض ہوتے ہیں نہ خوش ۔ ایک زمانہ تھا کہ اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے، اب یہ عالم ہے کہ اگر کوئی ناک کاٹ کر بھی لے جائے تو چپ رہتے ہیں۔ اخبارات پڑھئے یا خبریں سنئے تو ڈر لگنے لگتا ہے کہ ملک میں پتہ نہیں کیا ہونے والا ہےلیکن اگر عام لوگوں سے ملئے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو لوگوں کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے یا پھر برپشم قلندر ان کو کسی چیز کی پروا ہی نہیں ہے۔ پہلے عالم یہ تھا کہ ذرا سی بات پر لوگ سڑکوں پر نکل آتے اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا اور بڑے بڑے سورماؤں کوبھی، وقتی طور پر ہی سہی، ان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے ہی لئے کوئی ترکیب کرنی پڑتی تھی۔ بعض مواقع پرتو عوامی دباؤ کے تحت حکومتیں بھی گر جاتی تھیں۔ بنگالی زبان کے مسئلے کو ہی لے لیجئے، جب یہ مطالبہ مشرقی بنگال میں، جو اب بنگلہ دیش ہے ، اٹھا توحکمرانوں نے کوئی کثر اٹھا نہیں رکھی ، اسلام کا واسطہ دیا گیا، ’جعفر از بنگال‘ کے طعنے دیے گئے، پوری تحریک کو غیر ملکی سازش قراردیدیا گیا لیکن جو لوگ اپنے حق کے لئے سڑکوں پر نکل آئے تھے وہ حق لے کر ہی اپنے گھروں کو واپس گئے اور مسلم لیگ جو مشرقی بنگال میں قائم ہوئی تھی اسے وہاں سے بیخ و بن سے اکھاڑ دیا گیا۔ اسی طرح ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو ایوب خان نے اس کو دبانے کی حتی المقدور کوشش کی لیکن لوگ اس وقت تک ڈٹے رہے جب تک ایوب خان اپنے صدارتی محل سے روانہ نہیں ہوگئے۔ سن 1970کے انتخابات کو ہی لے لیجئے، یاروں نے بڑا زور مارا ، کفر کے فتوے تک جاری کردیے لیکن عوام نے اسی پر اعتماد ظاہر کیا جو ان کی نظر میں اس کے قابل تھا۔ پی این اے اور ایم آر ڈی کی تحریکیں بھی عوام کے غم وغصے کی مظہر تھیں، لیکن پھر اچانک یہ ہوا کہ عوام نے ملکی معاملات میں دلچسپی لینی چھوڑ دی، کچھ بجھ سے گئے ، جیسے انہیں یقین آگیا ہو کہ وہ کچھ بھی کرلیں یہ ملک جیسے چلتا رہا ہے ویسے ہی چلتا رہے گا۔وہ کسی کو بھی اقتدار میں لے آئیں وہ وہی کرے گا جو اس کے پیش رو کرگئے ہیں۔ اور یہ صورتحال صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بیشتر پسماندہ اور ترقی پزیر ملکوں میں ہے۔ ہندوستان میں ہونے والے ایک عام انتخابت سے متعلق ایک برطانوی ٹی وی چینل پر ایک دستاویزی فلم دکھنے کا اتفاق ہوا تھا، اب یہ یاد نہیں کہ یہ کون سے انتخابات تھے۔ فلم میں ایک رپورٹر نے ایک شخص سے ، جو ایک لنگوٹی میں ملبوس تھا، دریافت کیا کہ وہ اپنا ووٹ کس کو دے گا۔ اس نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا: ’ کسی کو نہیں۔‘ رپورٹر نے پوچھا کیوں؟ اس نے جو جواب دیا وہ کسی برطانوی چینل پر تو دکھایا اور سنایا جاسکتا ہے لیکن یہاں اس کو دہرانے کی ہمت نہیں ہوتی بس اتنا بتا دینا کافی ہے کہ اس نے اپنی لنگوٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا انہوں نےہمیں اتنے دنوں میں یہ دیا ہے تو ہم انہیں ووٹ کیوں دیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس آدمی کا یہ ردعمل کس حدتک وہاں کے عام لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان سمیت ایسے بیشتر ملکوں میں، جو نو آبادیاتی نظام سے بڑی قربانیوں کے بعد آزاد ہوئے تھے، عام لوگوں کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ لوگوں کو بالخصوص پاکستان میں اس آزادی کے نتیجے میں بے پناہ فائدے پہنچے ہیں لیکن عام آدمی کے حصے میں فقط وعدے آئے ہیں، وہ عزت آبرو کی زندگی کا وعدہ ہو، روٹی کپڑے اور مکان کا ہو یا پھر چادر اور چہار دیواری کے تحفظ کا ہو۔ اور یہ وعدےگزشتہ ستاون سال سے اس کی جھولی میں پڑے گل سڑ رہے ہیں۔ اب غالباً اس میں مزید وعدوں کو جمع کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ چنانچہ سیاسی جلسے جلوسوں میں بھی لوگ کم ہی دکھائی دیتے ہیں، عام انتخابات ہوں یا ریفرنڈم لوگ ایک تو آتے نہیں اور اگر آتے بھی ہیں تو ایسے جیسے بیکار مباش کچھ کیا کر، وہ بات نہیں ہے جو1946 میں تھی کہ مسلم لیگ کے نام پر اگر کھمبے کو جتوانہ پڑا تو اس کو بھی جتوادیا۔ صدر مشرف کو معلوم ہے کہ وہ عوام کے نام پر اپنی وردی اتارنا تو دور کی بات ہے اگر سب کو وردی پہنوا دیں تو بھی عوام کچھ نہیں کہیں گے اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بھی اندازہ ہے کہ وہ لاکھ ان سے رابطے کی مہم چلائیں عوام کا اعتماد حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ اس لئے وہ دھمکیوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال کچھ اچھی نہیں ہے، مایوسی کو بزرگوں نے کفر قرار دیا ہے، اور پاکستانی عوام میں یہ کفر بڑی تیزی سے فروغ پاتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی رہنماؤں کو، وہ اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر، عوام میں اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور ایسے وعدوں سے گریز کرنا چاہئے جنہیں وہ پورا نہیں کر سکتے اور اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی میں ایسی تبدیلیاں لانی چاہئیں جس سے عوام کو ایک بار پھر یہ یقین آجائے کہ یہ ملک ان کا ہی ہے اور یہاں وہی ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||