قومی مفاد: ’مشرف وردی نہ اتاریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ نہ چھوڑیں اور قومی مفاد میں دونوں عہدوں پر برقرار رہیں۔ تاہم انہوں نے قومی مفاد کی وضاحت نہیں کی۔ جمعرات کے روز اسلام آباد پشاور موٹر وے کے ایک سیکشن کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’میری رائے ہے کہ قومی مفاد میں صدر فوجی وردی نہ اتاریں۔‘ البتہ ان کا کہنا تھا کہ فوجی وردی کے معاملے پر حتمی فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ہی کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے کہ جنرل مشرف کو صدر اور آرمی چیف کے دونوں عہدے رکھنے چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر کے دونوں عہدے رکھنے پر کوئی آئینی قدغن نہیں اور ضرورت پڑنے پر پارلیمینٹ سے قانون بھی منظور کرایا جائے گا۔ جب وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ کیا اس پر حزب مخالف جماعتوں کا رد عمل نہیں ہوگا تو شوکت عزیز نے کہا کہ قومی مفادات عظیم ہوتے ہیں اور چونکہ دونوں عہدے رکھنا قومی مفاد میں ہے اس لیے سب کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ بدھ کے روز وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے فوجی عہدہ نہیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن رات گئے انہوں نے اپنا بیان واپس لیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کی یعنی وزیر کی خواہش ہے کہ صدر ایسا کریں اور وہ پر امید ہیں کہ صدر وردی نہیں اتاریں گے۔ شیخ رشید کے اس بیان پر حزب احتلاف کی جماعتوں نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس قدم کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ قبل ازیں چھبیس ارب روپوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اسلام آباد پشاور موٹر وے کے برہان تک کے ایک سیکشن کا وزیراعظم نے افتتاح کیا اور سڑک ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||