وردی نہ اتاریں، قرارداد منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز پنجاب اسمبلی نے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے پیش کی گئی یہ قرارداد اکثریتی رائے سے منظور کرلی جس میں صدر جنرل پرویز مشرف سے صدر اور فوجی سربراہ کے دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تاہم حزب مخالف کی سب جماعتوں نے راۓ شماری میں حصہ نہیں لیا اور واک آؤٹ کیا۔ حزب مخالف کے ارکان نے احتجاج کے طور پر قرارداد کی کاپیاں بھی پھاڑیں۔ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان میں صدر پرویزمشرف کی فوجی وردی کے حق میں قرارداد حزب اختلاف کے ارکان کے شور میں پڑھ کر سنائی جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اسمبلی جو ساڑھے سات کروڑ عوام کی نمائندہ ہے صدر مشرف کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے پاکستان کو معاشی بدحالی سے بچانے کے ساتھ ساتھ سیاسی و جمہوری اداروں کی بحالی کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان کی رائے میں صدر پر مشرف کی پالیسیوں کی بدولت پاکستان معاشی استحکام کی طرف گامزن ہے، صنعتی سرمایہ کاری کا عمل تیز تر ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وطن عزیز کا عالمی برادری میں وقار بحال ہوا ہے۔ قرار داد میں صدر مشرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی انارکی اور معاشی ابتری پھیلانے والوں کی سوچ رکھنے والوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے قومی سلامتی کے تقاضوں اور وسیع تر مفاد میں اکثریتی رائے ملحوظ رکھتے ہوئے وردی نہ اتارنے کا فیصلہ کریں اور دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں تاکہ دہشت گردوں کے خلاف اور معاشی استحکام کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔ حزب اختلاف کے صوبائی اسمبلی میں قائد قاسم ضیاء نے قرارداد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس قرار داد کو منظور کرانے میں حصہ لیں گے وہ جمہوریت کے قاتل ہوں گے اور یہ ایوان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہوگا۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ کیا پنجاب نے ٹھیکہ لیا ہوا کہ وہ ہمیشہ آمریت کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ جب اس اسمبلی میں ایل ایف او کی بات ہوتی تھی تو حکمران جماعت کہتی تھی یہ مرکز کا معاملہ ہے تو آج ق لیگ قرارداد پنجاب میں کیوں لے کر آرہی ہے؟ وزیرقانون راجہ بشارت نے کہا کہ اگر حزب اختلاف کسی خاص نکتہ پر اعتراض لائے تو ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں پر یہ اس کو مکمل طور پر رد نہ کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما نے آئین کے نکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے دسمبر کے آخر تک دو میں سے ایک عہدہ چھوڑنا لازمی ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ نااہل ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت یہ قرار داد لا کر آئین توڑنے میں صدر مشرف کی مدد کررہی ہے اور انہیں آئین توڑنے پر اکسارہی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما وسیم اختر کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے مجلس عمل سے معاہدہ کرکے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دسمبر دو ہزار چار تک وردی اتاردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل اور حکومت کے سترھویں ترمیم پر مذاکرات کئی بار اسی نکتہ پر ٹوٹے کہ صدر مشرف وردی اتارنے کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دے رہے تھے اور جب انہوں نے یہ تاریخ دی تو سمجھوتہ ہوا تھا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الہی نے جب قرارداد کے حق میں تقریر شروع کی تو حزب اختلاف نے مسلسل ’گو مشرف گو‘ کی نعرے بازی شروع کردی جس دوران میں وہ بولتے رہے۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ صدر مشرف نے بہت اچھے کام کیے ہیں اور ملک کو ترقی دی ہے اور وہ جمہوری آدمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد کی حکومت کا وفاقی حکومت سے خارجہ پالیسی پر اختلاف ہے اس کے باوجود صدر نے انہیں برداشت کیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد لا کر وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آئین کے اندر ہے اور حزب اختلاف کی ایک جماعت لندن سے اور دوسری جدہ سے ہدایات لے کر رہی ہے۔ قرارداد منظور ہونے کے بعد پرویز الہی نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان پر اپنے ادوار میں بدعنوانی کرنے کے الزامات لگاۓ اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر بھی مخالفین کو کچلنے اور قتل کروانے کے الزامات لگائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب نے آج جو صدرمشرف کی فوجی وردی کی حمایت کی ہے وہ سنہری الفاظ میں لکھی جاۓ گی اور وقت ثابت کرے گا کہ ہمارا فیصلہ کتنا اچھا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||