وردی: سندھ میں بھی قرارداد منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر جنرل پرویز مشرف سے کہا گیا ہے کہ وردی نہ اتاریں اور صدر اور آرمی چیف کے عہدے اپنے پاس رکھیں۔ یہ قرارداد متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی محمد حسین کی طرف سے پیش کی گئی۔ اپوزیشن ارکان اسمبلی نے قرارداد پیش کرنے پر شدید ہنگامہ کیا اور قرارداد کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ انہوں نے قرارداد نامنظور کے نعرے لگائے، سپیکر کے ڈیسک کے سامنے احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ تاہم سپیکر سید مظفر حسین شاہ نے قرارداد پر ووٹنگ کرائی جس کے بعد 92 ارکان اسمبلی نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر طالبان اور القاعدہ کی وجہ سے ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور ملک کی حفاظت ضروری ہے کہ صدر جنرل مشرف بدستور صدر اور آرمی چیف رہیں۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد سے پاکستان ایک بحرانی دور سے گزر رہا ہے اور صدر جنرل مشرف امریکی صدر جارج بش، برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور دنیا کے دیگر رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ بھی کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے بات ہو رہی ہے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ یہ سندھ اسمبلی کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ ایوان سے واک آؤٹ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قائم علی شاہ نےکہا کے یہ قرارداد اچانک پیش کی گئی جس سے حکومت کی بدنیتی ثابت ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کے لئے تین دن پہلے ارکان کو اس قرارداد کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے مگر اس قرارداد کہ بارے میں کسی بھی اپوزیشن رکن اسمبلی کو نہیں بتایا گیا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے بھی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور وردی کی قرارداد منظور ہونے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف کا وردی میں رہنا ملک کے لئے ناگزیر ہے۔ صدر جنرل مشرف کی وردی کے معاملے پر صوبائی اسمبلیاں دو حصوں میں بٹ چکی ہیں۔ پنجاب اسمبلی پہلے ہی وردی کے حق میں قرارداد منظور کر چکی ہے۔ جبکہ سرحد اسمبلی نے پندرہ ستمبر کو وردی کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے صدر جنرل مشرف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی وردی 31 دسمبر تک اتار دیں۔ بلوچستان اسمبلی میں وردی پر قرارداد متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی کے بعد واپس لے لی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||