BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 October, 2004, 19:33 GMT 00:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وردی: قومی اسمبلی میں ہنگامہ

جنرل مشرف نے اکتیس دسمبر تک دو عہدے رکھنے کا وعدہ کیا تھا
جنرل مشرف نے اکتیس دسمبر تک دو عہدے رکھنے کا وعدہ کیا تھا
پاکستان حکومت نے صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ اچانک قومی اسمبلی میں پیش کردی جس پر حزب اختلاف نے شدید احتجاج اور ہنگامہ کیا اور سپیکر نے اجلاس کی کاروائی منگل تک ملتوی کردی۔

پیر کو جب اجلاس شروع ہوا تو ایجنڈے پر قائمہ کمیٹی کے منظور کردہ اس بل کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کے متعلق کوئی نکتہ نہیں تھا۔ قائمہ کمیٹی نے اجلاس سے پہلے ہی اپنا اجلاس بلاکر صدر کے دو عہدوں کے متعلق بل ایوان میں پیش کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

کمیٹی کے اجلاس میں حزب اختلاف نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے بل کو رائے عامہ جاننے کے لیے عوام کے سامنے پیش کرنے کی تجویز دی تھی جو اکثریت رائے کی بنا پر مسترد کردی گئی۔

رات دیر تک حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس چلاتی رہی اور بعد میں اضافی ایجنڈا جاری کیا جس کے مطابق اچانک صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق قومی اسمبلی کی قانون انصاف اور پارلیمانی امور کے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین رائے منصب علی خان نے بل کے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کردی۔

رپورٹ پیش کرنے کے ساتھ ہی قاضی حسین احمد، راجا پرویز اشرف اور چودھری نثارعلی خان سمیت حزب اختلاف کے بیشتر اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے روسٹرم کے آگے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگانا شروع کردیے۔

گو مشرف گو اور نو مشرف نو کے علاوہ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو اور آمریت کے حامیوں پر لعنت جیسے وہ نعرے لگاتے رہے۔ حزب اختلاف کے نعروں اور شدید شور شرابہ کے دوران سپیکر نے اجلاس کی کاروائی منگل کی صبح تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔

اجلاس ختم ہونے کے بعد حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے کیفے ٹیریا میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل کو آئین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس سے پارلیمان بے معنی بن جائے گا۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے کہا کہ انہوں نے فوج کو واپس بیرکوں میں جانے کے لیے قانونی طور پر راستہ دینے کے لیے صدر مشرف کو اکتیس دسمبر تک باوردی صدر رہنے کی مہلت دی لیکن وہ ان کی غلطی تھی۔ان کے بقول آج صدر مشرف نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا حزب اختلاف اب اکتیس دسمبر کا انتظار کیے بغیر جنرل مشرف کے خلاف تحریک چلائے گی۔

قاضی حسین احمد نے فوج پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ فوج پارلیمان کو کھلونا بنانا چاہتی ہے لیکن وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے اور پارلیمان سے مستعفی ہونے سمیت تمام آپشنز پر غور کریں گے۔

قبل ازیں قومی اسمبلی میں پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن سے منسوب وہ بیان جس میں کہا گیا تھا کہ ’سندھی پاگل ہیں اس لیے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہے رہیں‘ کے متعلق حزب اختلاف کے کئی اراکین نے تحریک استحقاق پیش کیں۔

ایوان میں حزب اختلاف کے اراکین نے متعلقہ وزیر پر سخت تنقید کی لیکن وزیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا لیکن ڈاکٹر شیرافگن نے ساتھ ہی کہہ دیا کہ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو انہیں افسوس ہے۔

حزب اختلاف کے اراکین اس کے باوجود بھی وزیر کو برا بھلا کہتے رہے جس پر سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی اچانک کھڑے ہوگئے اور کہا کہ وزیر نے ایسا کہا یا نہیں لیکن وہ معذرت کرتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد