مشرف کی وردی: 2007 تک مہلت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کے وزراء نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر فوج کے سربراہ کا عہدہ نہ چھوڑنے پر تنقید کی ہے اور انہوں نے صدر مشرف سے کہا ہے کہ وہ 2007 تک ہر صورت میں فوجی سربراہ کے عہدے سے مستعفیٰ ہو جائیں۔ دولتِ مشترکہ کے وزارتی ایکشن گروپ (سماگ) نے اپنے بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے 31 دسمبر 2004 تک آرمی چیف کے عہدے سے مستعفٰی ہونے کا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر مشرف کو پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی جانب سے 2007 تک دونوں عہدے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزارتی ایکشن گروپ نے امید ظاہر کی ہے کہ 2007 کے آخر تک فوجی سربراہ اور صدرِ پاکستان کا عہدہ ایک ہی شخص کے پاس نہیں رہے گا۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ برس کے اختتام پر فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعدازاں وہ اپنے وعدے سے پھرگئے۔ دولتِ مشترکہ نے جنرل مشرف کے 1999 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کی رکنیت معطل کر دی تھی جو کہ گزشتہ برس مئی میں بحال کی گئی تھی۔ برطانیہ نے پاکستان کی رکنیت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دے رہا ہے بلکہ وہاں جمہوری میدان میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||