BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 October, 2004, 01:41 GMT 06:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دولتِ مشترکہ کے معیار دہرے ہیں‘

News image
حزب اختلاف کے ایک بڑے دھڑے متحدے مجلس عمل کے سربراہ اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈان میکنن کے صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے بارے میں بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’دولت مشترکہ کے دہرے معیار ہیں اور انہیں پاکستان میں انسانی بنیادی حقوق اور جمہوری اقدار کی بجائے اپنے مفادات زیادہ عزیز ہیں۔‘

وہ سنیچر کی شام لاہور کے صحافیوں کےاعزاز میں ہونے والے ایک افطار ڈنر کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقعے پر الگ سے اخبار نویسوں سے بات چیت بھی کی ۔

ڈان میکنن نے ایک روز قبل ہی بیان دیا تھا کہ ’دولت مشترکہ صدرجنرل پرویز مشرف کے وردی میں رہنے کے بارے میں پارلینمٹ کا فیصلہ مان لےگی ۔‘

جماعت اسلامی نے ان کے بیان کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بھی قرار دیا ہے۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ جو دستوری تقاضوں کے خلاف اور فوجی آمریت کے حق میں ہوگا تسلیم نہیں کیا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ فوج نے عدلیہ اور پارلیمان کی اکثریت کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ وہ اس قابل ہی نہیں رہی کہ کوئی صیح فیصلہ کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ جو پارلیمان یہ گنجائش نکال سکتی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف رکن قومی اسمبلی ہوسکتے ہیں اور جس پارلیمان کی اکثریت ایسے بل کی منظوری دے کہ صدر پاکستان چیف آف آرمی سٹاف بھی رہ سکتا ہے وہ اکثریت اس قابل نہیں ہے کہ اسے جمہوریت کی قیادت دی جائے۔

انہوں نے کہاکہ یہ وہ جمہوریت ہے جو وردی کی مرہون منت ہے اور یہ وہ اکثریت ہے جو وردی کے بغیر بے سہارا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب پرویز مشرف خود یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی وردی نہیں رہی تو سسٹم کو نقصان پہنچے گا تو اس کا صاف مطلب ہے کہ موجودہ سسٹم جمہوری نہیں ہے اور فوجی قوت کے ذریعے قائم ہوا ہے اور جب تک فوجی قوت کی بجاۓ عوام کی قوت سے نظام نہیں بنے گا اس وقت تک اس ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس پارلیمنٹ کو ختم کرنا کوئی بڑا کام نہیں ہے لیکن ان کی کوشش یہی ہوگی کہ اسی پارلیمان کی قوت سے تبدیلی لائی جائے۔

انہوں نے حزب اختلاف نے ایک دوسرے بڑے دھڑے اتحاد براۓ بحالی جمہوریت کے ساتھ ملکر تحریک چلانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کی روزانہ ان سے بات ہوتی ہے اور امکان ہے کہ جلد مشترکہ تحریک چلانے کا طریقہ کار اور اصول مرتب کر لیے جائیں گے۔

قاضی حسین احمد نے امکان ظاہر کیا کہ ایم ایم اے اور اے آر ڈی کی ایک مشترکہ آل پارٹیزکانفرنس جلد بلائی جائے گی لیکن اس کے لیے پہلے سے یہ طے کرنا کہ ضروری ہے کہ اس اے پی سی میں کیاکیا اعلانات کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ایم ایم اے رمضان کے بعد سے عوامی جلسوں کا سلسلہ شروع کر رہی ہے اور اٹھائیس نومبر کو کراچی ، تین دسمبر کو ملتان ، بارہ دسمبر کو لاہور اور انیس دسمبر کو راولپنڈی میں بڑے جلسے منعقد ہونگے۔

ادھر اے آرڈی پہلے ہی رمضان کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف عوامی سطح پر تحریک چلانے کا اعلان کر چکی ہے۔

ایم ایم کے مولانا فضل الرحمان کے پیر کو وطن لوٹنے بعد ان کی اور قاضی حسین احمد کی اے آرڈی کی مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفرالحق پر مشتمل دو رکنی کمیٹی سے ملاقات ہوگی جس میں مشترکہ تحریک چلانے کا فیصلہ ہوگا۔

اے آر ڈی کی مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ دو رکنی کمیٹی مسلم لیگ (ن) کے جلاوطن سربراہ میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کی جلاوطن چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر بنائی گئی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد