حزب اختلاف سے مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں متحدہ حزب اختلاف کی جانب سے قومی اسمبلی کی کارروائی کا جاری بائیکاٹ اور احتجاج ختم کرانے کے لیے سپیکر نے تین وفاقی وزراء پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی قائم کی ہے۔ محمد اعجاز الحق،شیخ رشید احمد اور لیاقت جتوئی پر مشتمل یہ کمیٹی منگل کو اس وقت بنانے کا اعلان کیا گیا جب حزب اختلاف نے حسب معمول صدر کی فوجی وردی کے متعلق بل کے خلاف اجلاس کی کاروائی کا بائیکاٹ کیا اور حکومت کو اجلاس کی یک طرفہ کارروائی چلانی پڑ رہی تھی۔ جب ایجنڈے پر موجود حزب اختلاف کے نکات کو خارج کیا جا رہا تھا اس دوران وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے تجویز دی کہ حزب مخالف کے بغیر ایوان کی کارروائی عجیب سی لگتی ہے اس لیے اپوزیشن کا بائیکاٹ ختم کرانے کے لیے ان سے رابطے کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔ جس پر سپیکر نے تین رکنی کمیٹی قائم کی۔ سپیکر نے منگل کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے حزب اختلاف کے پیش کردہ سنگین غداری سے متعلق قانون میں ترمیم کے بل سمیت چوبیس تحاریک اور بل ایجنڈے سے خارج کردیے۔ ہر سطح پر اردو کو بطور قومی زبان نافذ کرنے کے متعلق لیاقت بلوچ کی قرارداد بھی خارج ہونے والے چوبیس نکات میں شامل ہے۔ ضابطے کے مطابق منگل قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے اور بیشتر ایجنڈے کے نکات بھی حزب اختلاف کے اراکین کے ہی ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف کے متعلق خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید وہ اپنے ایجنڈے کے مطابق کارروائی میں حصہ لیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اجلاس ساڑھےگیارہ بجے مقررہ وقت سے نصف گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو حزب اختلاف کے رہنما راجہ پرویز اشرف اور لیاقت بلوچ کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر کے دو عہدوں کے متعلق بل کو آئین سے ماورا سمجہتے ہیں اور حکومت کی جانب سے اس بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وہ اجلاس کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔یاد رہے کہ چودہ اکتوبر کو ایک بل حکومت نے اکثریت رائے سے منظور کرایا تھا جس کا مقصد صدر جنرل پرویز مشرف کو فوجی وردی میں رہنے کا اختیار دینا تھا۔ حزب اختلاف کے اراکین نکتہ اعتراضات پر بولنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد اپنی نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے سامنے جمع ہوئے اور’گو مشرف گو، اور ’نو مشرف نو، کے علاوہ ’چور چوکیدار کو ایک دھکا اور دو، کے نعرے لگائے۔ حزب اختلاف کے کئی اراکین کے خلاف حکومت کی جانب سے پیش کردہ تحریک استحقاق کے بعد سے حزب اختلاف کے اراکین کے احتجاج کی شدت میں کچھ کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ حزب اختلاف کے بائیکاٹ کے بعد حکومت نے پینسٹھ نکاتی ایجنڈے پر یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے پچپن میں سے حکومتی اراکین کے پانچ کے لگ بھگ نکات تھے جن پر کارروائی ہوئی۔ جس کے مطابق بچوں میں تھیلسیمیا کے بڑھتے ہوئے مرض کو روکنے کے متعلق بل بھی شامل تھا جو سپیکر نے ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔ حکومتی رکن بیگم مہناز رفیع کی پیش کردہ ایک تحریک بھی منظور کی گئی جس میں حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ خواتین کو اقتصادی، سماجی اور سیاسی شعبوں میں آگے لانے کے بارے میں اقدامات کیے جائیں۔ حکومت کے حامی اقلیتی رکن ایم پی بھنڈارا نے تحریک پیش کی کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی وہ تقریر جو انہوں نے گیارہ اگست سن انیس سو سینتالیس کو پہلی دستور ساز اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئے کی تھی اسے تمام درجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے۔ حکومت نے ان کی تحریک کی مخالفت نہیں کی اور تحریک منظور کی گئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اب جمعرات کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔ یاد رہے کہ جمعے کو سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد پر کارروائی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||