BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 June, 2004, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز جلاوطنی، اپوزیشن کا احتجاج

News image
حزب اختلاف کے اراکین نے منگل کے روز پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے رہنما شہباز شریف کی مبینہ جبری جلاوطنی پر احتجاج کیا اور حکومتی رویے کے خلاف علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔

حزب اختلاف کے دونوں بڑے اتحادوں اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے حکومت پر کڑی تنقید کی۔

حزب اختلاف کے اراکین نے شہباز شریف کو وطن آنے کے بعد ہوائی اڈے سے ان کے بقول زبردستی حکومت کی طرف سے سعودی عرب بھیج دینے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین قرار دیا۔

تاہم اسپیکر چودھری امیر حسین نے تمام اراکین کے اس ضمن میں اٹھائے گئے نکتہ اعتراضات کو مسترد کردیا۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر کی زیر صدارت ایوان کی بزنس کمیٹی کے اجلاس میں پہلے سے طے کیا گیا تھا کہ حزب اختلاف کے اراکین کو اس معاملے پر نکتہ اعتراضات پر مختصر بحث کی اجازت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان حکومت دعوی کرتی رہی ہے کہ نواز شریف خاندان ایک ڈیل یا سمجھوتے کے تحت دس برس کے لئے دسمبر سن دو ہزار میں جلاوطن ہوئے تھے۔

تاہم مسلم لیگ نواز گروپ ایسے دعوؤں کی تردید کرتی رہی ہے۔

پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے شہباز شریف کی درخواست پر حکم میں کہا تھا کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری وطن واپس آسکتا ہے اور حکومت انہیں روک نہیں سکتی۔ ایسے عدالتی فیصلے کے بعد شہباز شریف گزشتہ ماہ جب لاہور پہنچے تو حکومت نے انہیں حراست میں لے کر ہوائی اڈے سے ہی واپس جدہ بھیج دیا تھا۔

منگل کے روز ایوان میں نجی کارروائی کا دن تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین جس میں سید نوید قمر، خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، شگفتہ جمانی اور دیگر شامل تھے نے توجہ دلاؤ نوٹس پر صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں پانی کی کمی کے باعث متعدد ہلاکتوں کا معاملہ اٹھایا۔

وزیر پانی و بجلی آفتاب شیرپاؤ کی عدم موجودگی کے باعث ایک اور وزیر اویس لغاری نے حکومتی مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی ہے اور جیسے جیسے دستیابی اور فراہمی بڑھ رہی ہے، سندھ کو زیادہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پانی کی تقسیم کے ذمہ دار ادارے، ارسا نے سندھ میں پانی کی کمی کا جو اندازہ لگایا تھا وہ درست نہیں اور کمی اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔

اراکین کے مطالبے پر اسپیکر نے بعد میں اس معاملے پر نکتہ اعتراضات پر مختصر بحث کی اجازت دی جس میں سرکار کی حامی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور حزب اختلاف کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل، کے اراکین نے بھی حصہ لیا۔

پیپلز پارٹی کے اراکین نے الزام لگایا کہ پانی کا بحران قدرتی نہیں بلکہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور حکام کی غفلت کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ جس پر وزیر نے ایوان کو بتایا کہ متعلقہ افسران کا تبادلہ کردیا گیا ہے اور مرنے والے افراد کو معاوضہ بھی دیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کا مطالبہ تھا کہ منچھر جھیل میں پنجاب کی صنعتوں کے کیمیائی فضلہ ملا پانی چھوڑنا بند کیا جائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گندے اور زہر آلود پانی کی وجہ سے جہاں ہزاروں مچھیروں کا روزگار ختم ہوا ہے وہاں لوگ ایسا زہر آمیز پانی پینے سے ہلاک بھی ہو رہے ہیں۔

علاوہ ازیں منگل کی صبح جب اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کی جانب سے تحریک التویٰ پیش کی گئی جس میں کراچی میں حالیہ بم دھماکوں اور امن امان کی خراب صورتحال پر بحث کا مطالبہ کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے پارلیمانی سیکرٹری داخلہ نے تحریک کی مخالفت نہیں کی اور اسپیکر نے یہ تحریک بحث کے لئے منظور کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مناسب وقت پر بحث کرائیں گے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر نے جمعرات تک کے لئے ملتوی کردیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد