شہباز کو گرفتار نہ کرنے پر نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی ایک عدالت نے جمعرات کو سبزہ زار پولیس مقابلہ کیس میں مفرور قرار دیے جانے والے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو گیارہ مئی کو گرفتار نہ کیے جانے پر دو وفاقی وزراء اور پنجاب پولیس کے اعلی افسروں کے خلاف انتیس مئی کے لیے نوٹس جاری کردیے۔ گیارہ مئی کو شہباز شریف کو لاہور ائر پورٹ سے ایک خصوصی طیارہ میں بٹھا کر جدہ روانہ کردیا گیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج لاہور سلطان احمد نےسبزہ زار جعلی پولیس مقابلہ میں ہلاک ہونے والے کے والد سعیدالدین کی درخواست کی سماعت کی۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مفرور قرار دے کر ان کے وارٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور وہ گیارہ مئی کو لاہور آئے لیکن انھیں گرفتار نہیں کیا گیا جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر اطلاعات، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، ڈی آئی جی لاہور اور ایس ایس پی پولیس لاہور کے خلاف کاروائی کی جائے۔ یہ مقدمہ انیس سو ننانوے میں لاہور کے علاقہ سبززہ زار میں پانچ نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت سے متعلق ہے جب شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلی تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||