 |  ’اللہ نے چاہا تو وطن کی دھرتی پر قدم رکھوں گا۔‘ |
پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کا خصوصی انٹرویو جو انہوں نے لندن میں اپنی رہائش گاہ سے ہیتھرو ایئرپورٹ جاتے ہوئے راستے میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو دیا۔ یہ لندن میں ان کا آخری باضابطہ انٹرویو تھا جس میں انہوں نے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ س: آپ نے جن حالات میں ملک چھوڑا تھا، اب آپ کے خیال میں کیا حالات بدل گئے ہیں؟ ج: حالات میں تبدیلی کا میری واپسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں وطن واپس جا رہا ہوں اپنی پاکستانی شہریت کا حق جتلانے اور اللہ نے چاہا تو میں اپنے وطن کی دھرتی پر قدم رکھوں گا اور مٹی کو چوموں گا۔ س: کیا آپ واپس جاکر محض اپنے پاکستانی ہونے کا حق جتلانا چاہتے ہیں یا سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں؟ ج: حق جتلانے کا مطلب یہ نہیں کہ میں کچھ ثابت کرنے جا رہا ہوں۔ پاکستان میرا ملک ہے جہاں سے مجھے زبردستی جلا وطن کیا گیا، غیر قانونی طور پر، غیر اخلاقی طور پر، یہ میرا حق ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں واپس جاکر اپنے لوگوں میں رہوں۔ س: سیاست میں کیا کردار ہوگا؟ ج: میں اپنے نجی معاملات بھی کروں گا، سیاسی معاملات بھی نمٹاؤں گا، پارٹی کے معاملات بھی نمٹاؤں گا۔ س: بطور ایک رہنما اپنی جماعت کے لئے آپ کے ذہن میں مستقبل کا کیا خاکہ ہے؟ ج: پارٹی نے اس ابتلا کے دور میں جو صعوبتیں برداشت کی ہیں اور سختیاں جھیلی ہیں، ریاست کی اندھی طاقت کا شکار ہوئی، ریاست کے جبر کا شکار ہوئی، اس سے پارٹی میں ایک مچیورٹی (بلوغیت) آئی ہے۔ اور یہ تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پارٹی ایک بھٹی سے کندن بن کر نکلی ہے۔  | دورِ اقتدار کی غلطیاں  ہم نے جو فارن کرنسی اکاؤنٹ پر پابندی لگائی تھی اس میں بدنیتی نہیں تھی لیکن بہرحال ایک غلطی تھی۔ ہم نے جلدی میں یہ فیصلہ کیا جو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اسی طرح میں جب پنجاب میں چیف منسٹر تھا مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں اور اگر اللہ نے موقع دیا تو انہیں نہیں دہرائیں گے۔  شہباز شریف |
س: آپ کی جماعت میں سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کے لئے کوئی گنجائش ہوگی۔ ج: جن لوگوں نے پارٹی کی اساس کو نقصان نہیں پہنچایا، جن لوگوں نے اس کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپا انہیں ہم پھر بھی خوش آمدید کہیں گے۔ لیکن جن لوگوں نے چھرا گھونپا ہے ان کے بارے میں میں کوئی حتمی بات نہیں کر سکتا۔ س: اساس کو نقصان پہنچانے یا چھرا گھونپنے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ ج: اس سے میری مراد یہ کہ جب میاں نواز شریف جیل میں تھے اور ایک نام نہاد جہاز اغوا کرنے کے جھوٹے مقدمہ کا سامنا کر رہے تھے لوگوں نے اسی وقت نظریں بدل لیں اور سیاسی مفادات حاصل کیے۔ اعلیٰ عہدے ان کے پاس تھے انہوں نے نئے گروپ بنانے شروع کر دیئے، ایجنسیوں کے کہنے پر انہوں نے پارٹی لیڈر کے خلاف بیانات دیئے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو پارٹی کا ساتھ دینے والے کارکن اور عہدیدار کبھی برداشت نہیں کریں گے کہ جنہوں نے پارٹی کے چھرا گھونپا انہیں واپس لیا جائے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ س: سیاسی وفاداریاں بدلنے سے میرا مطلب ان لوگوں کی طرف اشارہ کرنا تھا جو اس وقت تو پارٹی کے ساتھ تھے مگر جب انتخابات ہوئے تو انہوں نے ایک نئی پارٹی تشکیل دی اور اب حکومت کا حصہ ہیں۔ ج: میں آپ کی بات سمجھ گیا۔ آپ کے پچھلے دو سوالوں میں نے اس کا جواب دیا ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔  | پانچواں پہیہ  میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے تصور سے قطعی اختلاف کرتا ہوں۔ یہ گاڑی میں پانچویں پہیہ کی طرح ہے۔۔۔۔۔ اب جو شکل بنی ہے اس میں یہ نیشنل سکیورٹی کونسل نہیں بلکہ صدارتی نظام حکومت کے مترادف ہے۔  شہباز شریف |
س: آپ تقریباً چار سے عملی سیاست سے باہر ہیں کیا اس عرصے میں آپنے غور کیا کہ سیاسی طور پر شریف خاندان یا آپ کی جماعت سے کہیں غلطیاں سرزد ہوئیں اور وہ کیا تھیں؟ ج: کوئی بھی حکومت ہو چاہے وہ امریکہ میں ہو، برطانیہ میں ہو یا ہندوستان میں ہو اس سے اچھے کام بھی ہوتے ہیں اور اس سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ کیا دانستہ طور پر ہوتی ہیں کئی انجانے میں ہوجاتی ہیں۔ ہم سے جو غلطیاں ہوئیں ہیں ان سے ہم نے سبق سیکھا ہے۔ غلطیوں سے سیکھانا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ س: کوئی ایسی بات جو نہیں ہونی چاہئے تھی؟ ج: مثال کے طور پر ہم نے جو فارن کرنسی اکاؤنٹ پر پابندی لگائی تھی اس میں بدنیتی نہیں تھی لیکن بہرحال ایک غلطی تھی۔ ہم نے جلدی میں یہ فیصلہ کیا جو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اسی طرح میں جب پنجاب میں چیف منسٹر تھا مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں اور اگر اللہ نے موقع دیا تو انہیں نہیں دہرائیں گے۔ س: اس عرصے میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں ہی زیر عتاب رہی ہیں اور غالباً یہ ہی وجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے قریب بھی آئی ہیں۔ کیا یہ وقتی مصحلت کا نتیجہ ہے یا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مستقبل میں افہام و تفہیم کی فضا میں کام کر سکیں گی، خاص طور پر جبکہ دونوں میں نظریاتی طور پر خاصی دوری ہے؟  |  شہباز شریف کی وطن روانگی کے وقت انہیں ایئر پورٹ پر بنیظر بھٹو کی طرف سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا گیا۔ |
ج: ہم اے آر ڈی کی چھتری کے تلے جمہوریت کے لئے مشترکہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑا صبر آزما مرحلہ ہے، ایک طرف سٹیٹ مشینری ہے، ملٹری کی پشت پناہی ہے۔ ان سب کو توڑنے میں وقت لگے گا۔ اور ہم اسی ایک نکاتی ایجنڈے پر ہماری جدو جہد مرکوز ہے۔ س: نظریاتی طور پر دونوں جماعتوں میں خاصا فرق ہے کیا جب بقول آپ کے جمہوریت بحال ہو جائے گی تو یہ دونوں جماعتیں ساتھ چل سکیں گی؟ ج: جس پارٹی کو لوگ مینڈیٹ دیں گے اس کا ہم پورا احترام کریں گے پارلیمنٹ کے اندر بھی اور باہر بھی۔ اور مجھے قوی امید ہے کہ جب ایک بار جمہوریت بحال ہوئی تو پھر کوئی مائی کا لعل اکھار پچھاڑ نہیں کر سکے گا۔ اور ہمیں بھی خون کے حلف پر یہ طے کرنا ہوگا کہ کبھی ہم جی ایچ کیو جاکر مدد نہیں مانگیں گے کہ حکومت کی ٹانگیں کھینچی جائیں اور جمہوریت کو پٹری سے اتار جائے۔  | گوشت خور  جس آدمی کو گوشت کھانے کی عادت پڑ جائے اسے آپ یکایک دال کھانے پر آمادہ نہیں کر سکتے۔تو یہ ہی معاملہ ہوگیا ہے۔ فوج کو چونکہ تیس سال کا عرصہ گزر گیا پاکستان میں حکومت کرتے اور باقی عرصہ بھی یہ بلواسطہ پلیئرز رہے ہیں۔  شہباز شریف |
س: موجودہ حکومت نے سیاست میں فوج کی مداخلت کو روکنے کے لئے قومی سلامتی کونسل تشکیل دی ہے کیا آپ کے خیال میں اس فوج کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے گا؟ ج: میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے تصور سے قطعی اختلاف کرتا ہوں۔ یہ گاڑی میں پانچویں پہیہ کی طرح ہے۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر بات فوج اور سیاسی حکومت میں اشتراک عمل کی ہے تو اس کے لئے ڈیفنس کمیٹی کی شکل میں ایک آئینی ادارہ موجود ہے۔ اگر ضرورت تھی تو اس میں توسیع کی جا سکتی تھی۔ لیکن اب جو شکل بنی ہے اس میں یہ نیشنل سکیورٹی کونسل نہیں بلکہ صدارتی نظام حکومت کے مترادف ہے۔ س: حکومت کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کونسل کی تشکیل سے اقتدار میں فوج کی مداخلت کا راستہ روکا گیا ہے اگر آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے تو آپ کے ذہن میں اس کا متبادل کیا ہے؟ ج: فوجی مداخلت کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں چار مارشل لاء لگے۔ میں آپ کو ایک عام سی مثال دیتا ہوں۔ جس آدمی کو گوشت کھانے کی عادت پڑ جائے اسے آپ یکایک دال کھانے پر آمادہ نہیں کر سکتے۔ اگر اس سے کہا جائے کہ دال کھاؤ تو وہ کہے گا تم کون ہوتے ہو مجھے دال کھلانے والے میں تو گوشت کھاتا ہوں۔ تو یہ ہی معاملہ ہوگیا ہے۔ فوج کو چونکہ تیس سال کا عرصہ گزر گیا پاکستان میں حکومت کرتے اور باقی عرصہ بھی یہ بلواسطہ پلیئرز رہے ہیں۔ س: فوج اور سیاست داں اپنی جگہ مگر آئین کی پاسبانی کرنے والی عدلیہ نے بھی تو بعد میں آئین توڑنے والوں کو تحفظ دیا۔ کیوں؟ ج: کسی بھی معاشرے کے بگاڑ یا سنوار میں عدلیہ کا بہت اہم کردار ہے۔ پاکستان میں عدلیہ ایک عرصے سے کمزروری کا شکار رہی، آمروں کے آگے جھک گئی، سیاستدانوں نے ججوں کو استعمال کرنا شروع کیا اور انصاف دولت کے ہاتھوں بِکا پاکستان میں۔ س: عدالت اتنی کمزور کیوں رہی؟ ج: میرا یہ مطلب نہیں۔ نہ آپ اس سے غلط مطلب لیں۔ اچھے ججوں کی کمی تو نہیں رہی مگر بعض جج ایسے بھی آئے جو مصلحتوں کا شکار ہوئے اور دباؤ کے تحت انصاف کے ساتھ فیصلے نہیں کیے۔ س: اس وقت آپ کے ہاتھ میں بوب ووڈورڈ کی کتاب ’بش ایٹ وار‘ نظر آ رہی ہے، اس کے علاوہ کونسی کتابیں پڑھیں اور کن سے متاثر ہوئے؟ ج: ’بش ایٹ وار‘ میرے زیر مطالعہ ہے۔ ویسے نیلسن منڈیلا کی کتاب ’دا لانگ واک ٹو فریڈم‘ سے بہت متاثر ہوا ہوں، پھر سٹینلے والپرٹ کی کتاب ’جناح آف پاکستان‘ نے مجھے بڑا متاثر کیا۔ پچھلے دنوں سٹینلے والپرٹ کی ’نہرو: ٹرِسٹ وِد ڈیسٹینی‘ پڑھی وہ مجھے پسند آئی۔ |