کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے صدر شہباز شریف کو ملک واپس نہ آنے دے کر حکومت نے پاکستان کی عدلیہ کو امتحان میں ڈال دیا ہے جس نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں یہ کہا تھا کہ یہ ہر پاکستانی کا حق ہے کہ وہ اپنے ملک آئے اور اپنے خلاف لگاۓ گۓ الزامات کا دفاع کر سکے ۔ میاں شہباز شریف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جمعرات کے روز سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے اور اس سے ایک ’واضح‘ فیصلہ لینے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود کے مطابق پاکستان کی عدلیہ کو، جس پر پہلے ہی عوامی اعتماد کی کمی ہے، ایک اور کڑے امتحان میں ڈال دیا گیا ہے کیونکہ کسی عدالت کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ کرے جس میں کسی ایک ملزم کو عدالت میں پیش ہونے سے روک دیا جائے۔ حکومت کے فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں آج بھی فوج کی سنی جاتی ہے اور فوجی حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ملکی قوانین کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے 1998 میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب پانچ لوگوں کے قتل کا حکم دیا۔ اور وہ مقدمہ لاہور کی دہشت گردی کی عدالت میں زیر التوا ہے جس میں شہباز شریف کو مفرور قرار دیاگیا ہے۔ شہباز شریف کا مقدمہ اپنی نوعیت کا واحد مقدمہ ہے جس میں ایک ملزم عدالت میں پیش ہونا چاہتا ہے لیکن حکومت اس کو روک رہی ہے۔ حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ جب شہباز شریف لاہور ایئرپورٹ پر اترے تو لاہور پولیس نے ان کو اسی عدالت کے وارنٹ کی بنا پر گرفتار کیا جس کی بنیاد پر اس کو اشتہاری ملزم قرار دیا گیا ہے۔ لیکن پکڑنے کے بعد ان کو ایف آئی اے کے حوالے کر دیاگیا جس نے انہیں سعودی عرب جانے والے جہاز میں بٹھا دیا۔ حفیظ پیرزادہ نے کہا حکومت کا کام تو ملزمان کو پکڑ کر عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے جبکہ موجودہ حکومت ملزمان کو جہازوں میں بٹھا کر ملک سے باہر بھیج رہی ہے۔ اپنی آمد سے ایک دن پہلے جب شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ وہ حکومت کوحکم دے کہ ان کو ملک سے باہر نہ بھیجے تو لاہور ہائی کورٹ نےاس درخوست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔ درخواست واپس کرتے ہوئے عدالت نےکہا کہ چونکہ درخواست گزار ایک اشتہاری ملزم ہے لہذا یہ درخواست اس وقت تک قابل قبول نہیں ہے جب تک وہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے۔ جب وہ پیش ہونے کے لیے پاکستان آئے تو ان کو زبردستی سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ سپریم کورٹ نےاپنے پہلے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر شہباز شریف واپس آنا چاہیں تو وہ آ سکتے ہیں لیکن جب عدالت سے کہا گیا کہ حکومت ان کو واپس نہیں آنے دے گی توعدالت نے کہا کہ یہ ایک مفروضہ ہے اور عدالتیں مفروضوں کی بنا پر فیصلے نہیں کرتیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||