شہباز شریف لندن سے روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی ایم ایل نواز کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ وطن واپس جانے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان جاکر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستانی ہیں اور جس طرح کسی بھی پاکستانی کو اپنے وطن میں رہنے کا حق حاصل ہے انہیں بھی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان پہنچ کر ذاتی معاملات کے ساتھ سیاسی اور جماعتی معاملات بھی نمٹائیں گے۔ یہ بات انہوں نے اپنی روانگی سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے خطاب میں کہی جو انہیں الوداع کرنے کے لئے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر آئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر پی پی پی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے مسلم لیگ کے رہنما کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ شہبازشریف منگل کی صبح ابو ظہبی پہنچیں گے جہاں سے وہ دوپہر کو لاہور کے لئے روانہ ہوجائیں گے۔ لاہور میں ان کی آمد شام سوا چھ بجے متوقع ہے۔ شہباز شریف کے ہمراہ امریکہ اور برطانیہ میں مسلم لیگ نواز کے عہدیدار بھی ہیں۔ اس سے قبل لندن میں ہنگامی طور پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں شہباز شریف کہا کہ وہ آج اپنی جبری جلاوطنی ختم کرکے پاکستان جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ وہ پاکستانی ہیں اور صرف ایک ہی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور بحیثیت شہری ان کا یہ حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی یہی فیصلہ دیا ہے کہ کسی شہری کو وطن واپس آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سر دست وہ اپنے خلاف قائم قتل کے جھوٹے مقدمے میں اپنا دفاع کرنے جارہے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں حکومت پاکستان کا رد عمل کیا ہوسکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہ ان کی واپسی کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے یا انہیں شریف خاندان اور ان کی جماعت کی حمایت حاصل ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ کوئی بچے نہیں ہیں اس لیے یے ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور نواز شریف ان کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ واپسی پر بڑے بڑے عوامی اجتماعات کی توقع نہیں رکھتے۔ شہباز شریف اور ان کے خاندان کو دس دسمبر دو ہزار میں جلا وطن کردیا گیا تھا۔ مشرف حکومت کا دعوٰی ہے کہ شریف خاندان ایک معاہدے کے تحت ملک سے باہر گیا ہے تاہم اس معاہدے کی تفصیلات کبھی منظر عام پر نہیں آئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||