آج جبری جلاوطنی ختم: شہباز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میاں شہباز شریف نے ہنگامی طور پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ آج اپنی جبری جلاوطنی ختم کرکے پاکستان جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ وہ پاکستانی ہیں اور صرف ایک ہی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور بحیثیت شہری ان کا یہ حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی یہی فیصلہ دیا ہے کہ کسی شہری کو وطن واپس آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سر دست وہ اپنے خلاف قائم قتل کے جھوٹے مقدمے میں اپنا دفاع کرنے جارہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں حکومت پاکستان کا رد عمل کیا ہوسکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہ ان کی واپسی کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے یا انہیں شریف خاندان اور ان کی جماعت کی حمایت حاصل ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ کوئی بچے نہیں ہیں اس لیے یے ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور نواز شریف ان کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ واپسی پر بڑے بڑے عوامی اجتماعات کی توقع نہیں رکھتے۔ شہباز شریف اور ان کے خاندان کو دس دسمبر دو ہزار میں جلا وطن کردیا گیا تھا۔ مشرف حکومت کا دعوٰی ہے کہ شریف خاندان ایک معاہدے کے تحت ملک سے باہر گیا ہے تاہم اس معاہدے کی تفصیلات کبھی منظر عام پر نہیں آئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||