BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 May, 2004, 07:49 GMT 12:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز ڈی پورٹ ہوکر جدہ پہنچ گئے
لیگی کارکن
نواز شریف اپنے بھائی کو لینے جدہ ایئرپورٹ آئے تھے
شہبازشریف منگل کے روز پاکستان سے ڈی پورٹ ہونے کے چند گھنٹوں بعد سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے۔

اس موقع پر جدہ ایئرپورٹ پر سخت حفاظتی انتظامات دیکھنے میں آئے۔

میاں شہباز شریف کو بظاہر سعودی عرب ’چھوڑنے‘ کی اجازت ملنے کے بعد یہ دونوں بھائیوں کے درمیان پہلی ملاقات ہے۔

میاں شہباز شریف کو ٹیومر کا آپریشن کروانے کے لیے سعودی عرب سے جانے کی اجازت ملی تھی۔

جدہ میں راشد حسن کے مطابق صدر پرویز مشرف نے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے سعودی-پاک تعلقات پر بات کی۔ اس کے علاوہ علاقائی معاملات اور حالیہ صورتحال پر بات ہوئی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی ڈی پورٹیشن کا معاملہ بھی زیر غور آیا ہوگا۔

سعودی حکام نے اس معاملے پر کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم وہاں پاکستانی سفارتکارں کے مطابق سعودی عرب بخوشی وہ معاہدہ نبھائے گا جس کے تحت سو دو ہزار میں شریف خاندان سعودی عرب جلاوطن کردیا گیا تھا۔

شہباز شریف خلیجی ایئر لائن کے طیارے کے ذریعے ابوظہبی سے لاہور پہنچے تھے۔ انہیں آمد کے ڈیڑھ گھنٹے بعد حکام نے پی آئی اے کے ایک خصوصی طیارے پی کے تین سو پانچ کے ذریعے سعودی عرب کے شہر جدہ بھیج روانہ کردیا تھا۔

اس خصوصی طیارے میں میاں شہباز شریف اور جہاز کے عملے کے علاوہ ایک نرس، ایک ڈاکٹر اور ایک ائیر گارڈ موجود تھے۔

ابوظہبی سے شہباز شریف کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ جونہی طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر اترا اسے پولیس کمانڈوز نے گھیرے میں لے لیا اور شہباز شریف کو گرفتار کر لیا گیا۔

نامہ نگار کے مطابق اس دوران ایئر پورٹ کے علاقے میں موبائل فون کی سروس کو جام کر دیا گیا۔

شہباز شریف کی آمد سے چند گھنٹے پہلے پولیس اور مسلم لیگ (نواز) کے کارکنوں کے مابین جھڑپیں ہوئیں اور متعد لیگی رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں مسلم لیگ کے کئی مرکزی رہنما بھی شامل ہیں جنہیں پولیس کے مطابق مسلم لیگ کے جلسہ گاہ پہنچنے پر گرفتار کیا۔

شریف خاندان کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ جب شہباز ابو ظہبی پر اپنی فیملی کو چھوڑنے کے بعد لاہور روانہ ہوئے تھے تو انہیں اندازہ تھا کہ انہیں پاکستان پہنچنے پر زبردستی ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد