شہباز کے ہم رکاب صحافیوں کی بپتا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو جب مسلم لیگ نواز گروپ کے سربراہ میاں شہباز شریف لاہور پہنچے تو ان کے ساتھ ابو ظہبی سے سوار ہونے والے کچھ صحافی بھی تھے جو مسلم لیگی رہنما کی پاکستان واپسی کی کوریج کے لئے ان کے ہمراہ تھے۔ تاہم جب شہباز شریف کا جہاز لاہور پہنچا اور انہیں واپس جدہ بھیجنے کی تیاری شروع ہوئی تو طیارے میں سوار صحافیوں کو انتہائی دشوار مرحلے سے گزرنا پڑا اور خاص طور پر بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس اور کیمرہ مین علی فیصل زیدی کو پولیس نے پینتالیس منٹ تک حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑا اور ان سے چھینے گۓ آ لات اپنے قبضے میں ہی رکھے۔ ظفر عباس نے بتایا کہ جونہی وہ طیارہ جس میں شہباز شریف سفر کر رہے تھے لاہور ایرپورٹ پر اترا تو سیکنڑوں پولیس کمانڈز نے اس کو گھیرےمیں لیا اور باہر آنے والے ہر شخص کو حراست میں لے لیا۔ صحافیوں سے ٹیپ ریکارڈر مائیکروفون اور دوسرے آلات چھین لیے گئے۔ اس صورتِ حال پر جب پولس سے احتجاج کیا گیا تو انہوں نے احتجاج کرنے والوں کو بھی پکڑ لیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کو بھی حراست میں لیا گیا اور ان کو گھسیٹتے ہوئے پولیس گاڑی تک لے گئی۔ ظفر عباس نے بتایا کہ ان کو پنتالیس منٹ حراست میں رکھا۔ جب ان کو چھوڑا گیا تو بھی ان کے سامان کی کئ دفعہ تلاشی لی گئی لیکن تمام ٹیپ شدہ مواد کو اپنے قبضے میں رکھا گیا جن میں شہباز شریف کا وہ انٹرویو بھی شامل ہے جو |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||