پاکستان: بڑی سیاسی تبدیلیاں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں ایک بار پھر بحث چل پڑی ہے اور چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ مرکزی اور سندھ کی صوبائی حکومت میں اعلیٰ سطحی تبدیلیوں کا اعلان کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔ اردو اخبار جنگ کے صفحہ اول پر منگل کو شائع کردہ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم جمالی اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت کے درمیاں شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم کی حمایت ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ اس اخبار میں نئے ممکنہ وزیراعظم کے لئے چاروں صوبوں سے دو دو اراکین اسمبلی کے نام بھی شائع کیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ ان ناموں پر غور ہو رہا ہے۔ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب وزیراعظم آئے تو اپنی نشست پر بیٹھنے کے بجائے تیسری قطار میں جا کر پیچھے بیٹھ گئے اور بعد میں وہ حزب اختلاف کی نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین سید خورشید شاہ اور نوید قمر سے خاصی دیر کھڑے ہوکر گفتگو کرتے رہے جبکہ امین فہیم سے گلے بھی ملے۔ ماضی میں جب بھی وزیراعظم ایوان میں آتے تھے تو بیشتر وزراء اور اراکین اسمبلی ان کے پاس آتے تھے لیکن منگل کے روز صورتحال اس کے برعکس دیکھنے کو ملی کیونکہ وزیراعظم خود چل کر اراکین سے مل رہے تھے۔ منگل کو انگریزی روزنامہ ڈان میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سے منسوب ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ کراچی میں پرتشدد کارروائیاں ایک سازش کے تحت ہو رہی ہیں۔ ان کے بقول اس مبینہ سازش کا مقصد سندھ میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے یا شہر فوج کے حوالے کرنا ہے۔ کراچی میں حالیہ بم دھماکوں اور پرتشدد کارروائیوں کے بعد وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشید سے منسوب اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے صورتحال کا سخت نوٹس لیا ہے اور اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ شیخ رشید نے رابطہ کرنے پر ایسے بیان دینے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے سندھ میں حکومت کی تبدیلی یا گورنر راج نافذ کرنے کے سوالات پر تبصرے سے گریز کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے ایسے بیان کے بعد رات گئے تک ملک بھر میں سندھ میں بڑی تبدیلیوں کی افواہیں چل رہی تھیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ علی محمد مہر جو منگل کے روز وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی صدارت میں ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوئے ہیں وہ تاحال سرکاری ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ منگل کے روز ایوان میں وزیراعظم کی سرگرمیوں اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے نہ صرف پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں ممکنہ سیاسی تبدیلی موضوع بحث تھی بلکہ پریس گیلری اور لاؤنج میں بھی سرگوشیاں ہوتی رہیں کہ اب کی بار جمالی شاید ہی بچیں۔ اس ضمن میں پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں معلومات ملی ہے کہ صدر مشرف نے وزیراعظم جمالی سے استعفیٰ دینے کو کہا ہے لیکن ان کے بقول وزیراعظم نے مستعفی ہونے سے انکار کیا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اقتدار کے ایوانوں کے اندر بحرانی کیفیت ہے اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ سرکاری حکام ایسی افواہوں اور بحرانی کیفیت کی حسب روایت تردید ہی کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||