اسمبلی بلڈنگ میں کمانڈوز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں باوردی فوجی کمانڈوز کی تعیناتی کے خلاف حزب اختلاف کے اراکین نے بدھ کے روز سخت احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔ حزب اختلاف نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کمانڈوز کی تعیناتی کو پارلیمان کی توہین اور وقار مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا۔ بدھ کے روز صدر جنرل پرویز مشرف نے موجودہ اسمبلی کے اکتوبر سن دو ہزار دو میں معرض وجود میں آنے کے بعد پہلی بار پارلیمینٹ ہاؤس میں واقع صدارتی چیمبر میں بیٹھ کر کارروائی سنی۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر اور باہر انتہائی غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ عمارت کے احاطے میں داخل ہونے والے بیرونی دروازے کے سامنے سیمنٹ اور کنکریٹ کے بڑے بلاک کھڑے کیے گئے تھے جبکہ اندرونی دروازوں پر بھی غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آئے۔ صحافیوں کو موبائیل فون بھی اندر لے جانے نہیں دیئے گئے جبکہ عمارت کے اندر داخل ہونے والوں کی تلاشی بھی لی گئی۔ اس موقع پر اراکین پارلیمنٹ کے کارڈ چیک کیے گئے۔ باوردی فوجی کمانڈوز نہ صرف گاڑیوں میں پارلیمان کی جانب آنے والی سڑکوں پر گشت کرتے رہے بلکہ عمارت کے اندر بھی مختلف جگہوں پر تعینات تھے۔ حزب اختلاف کے اراکین محمود خان اچکزئی اور لیاقت بلوچ نے فوجی کمانڈوز کی موجودگی پر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے پارلیمان کا تقدس مجروح ہوا ہے اور اس کی توہین بھی کی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صدر جنرل مشرف کی آمد کی وجہ سے ایسے اقدامات کیے گئے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدر پارلیمنٹ کا حصہ ضرور ہیں لیکن آرمی چیف نہیں۔ حزب اختلاف کے دونوں بڑے اتحادوں اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس نے علامتی واک آئوٹ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے ایوان میں انکشاف کیا کہ پارلیمان کی عمارت جمہوری اداروں کی بڑی علامت ہے اور ان کے بقول حکومت کو معلومات ملی ہیں کہ نہ صرف پارلیمان بلکہ اراکین کی جان کو بھی خطرہ ہے اس لئے حکومت نے حفاظتی انتظامات سخت کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر مزید انتظامات سخت کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے پارلیمنٹ ہاؤس سے جانے کے بعد فوجی کمانڈوز بھی واپس چلے گئے، تاہم پارلیمنٹ کے بیرونی دروازے پر رکاوٹیں بدستور موجود تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||