BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 April, 2004, 16:56 GMT 21:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
این ایس سی کا قانون بن گیا

مشرف
قومی سلامتی کونسل صدر مشرف کے خواہشات کے مطابق آئینی حیثیت حاصل نہیں کر سکی تاہم اس کا قانون دونوں ایوانوں سے منظور ہو گیا
حال ہی میں پارلیمان سے منظور کرائے گئے قومی سلامتی کونسل کے متنازعہ بل پر صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے دستخط تو کردیے ہیں لیکن ابھی تک اس ادارے کو چلانے کے لیے قواعد وضوابط بن پائے ہیں نہ ہی کوئی اجلاس بلایا گیا ہے۔

اس ضمن میں جب وزیر مملکت برائے قانون و انصاف و پارلیمانی امور رضا حیات ہراج سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم بیرون ملک دورے سے واپس آئیں گے تو ان سے اجازت لے کر قواعد و ضوابط بنائے جائیں گے۔

تاہم سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا اختیار صدر مملکت کو ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے قیام سے پاکستان میں پہلی بار فوج کو سیاسی امور میںباضابطہ کردار حاصل ہو جائے گا اور حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بشمول متحدہ مجلس عمل اس بات کی مخالف ہیں۔

تیرہ رکنی سلامتی کونسل جس کے سربراہ صدر ملکت ہوں گے اور اراکین میں وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، قومی اسمبلی کے سپیکر اور قائد حزب اختلاف، چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، اور تینوں مسلح افواج ( بری، بحری اور فضائیہ) کے سربراہ شامل ہوں گے۔

بظاہر یہ کونسل ملکی سلامتی، دفاع اور بحران جیسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے مشاورتی فورم کا کردار ادا کرے گی۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ پارلیمان سے بالاتر ہوگا اور اس سے جمہوریت کو شدید دھچکا لگے گا، جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کونسل کے قیام سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور مستقبل میں فوجی مداخلت کا راستہ روکنے میں مدد ملے گی۔

کونسل کی ہیئیتِ ترکیبی کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیرہ ارکان میں شامل ہیں لیکن سترہ ماہ گزرنے کے باوجود بھی سپیکر حزب اختلاف کا رہنما نامزد نہیں کر پائے۔

وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے سترہ ماہ بعد حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے واضع کیا تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ مجلس عمل کو ملے گا۔

جب اس ضمن میں مجلس کے رہنما حافظ حسین احمد سے پوچھا گیا کہ انہوں نے تو قومی سلامتی کونسل کی مخالفت کی تھی اب ان کے اتحاد کا قائد حزب اختلاف، کیا کونسل کے اجلاس میں شریک ہوگا، تو ان کا کہنا تھا کہ جب تک سلامتی کونسل کا سربراہ وزیر اعظم نہیں ہوگا وہ کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد