’سلامتی کونسل بل‘ سینیٹ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس صدر مملکت نے جمعہ کی صبح طلب کیا ہے جس میں قومی اسمبلی سے منظور کرہ متنازعہ قومی سلامتی کونسل کے قیام کا بل پیش ہونے کی توقع ہے۔ اجلاس میں بل کی بھرپور مخالفت کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں نے جمعہ کی صبح پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس بھی بلائے ہیں۔ جب کہ حکومت نے بھی حکمت عملی بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ حکومتی جماعتوں کو سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل ہے جس کی وجہ سے سلامتی کونسل کے قیام کے بل کی منظوری میں بظاہر کوئی دشواری تو نہیں ہوگی البتہ حکومتی ارکان کو سینیٹ میں حزب اختلاف کے تجربہ کار منجھے ہوئے ایسے سیاستدانوں کا سامنا کرنا ہوگا جن میں اسفند یار ولی، رضاربانی، پروفیسر خورشید اور پروفیسر غفور جیسے پارلیمینٹیرینز شامل ہیں۔ ایک سو ارکان پر مشتمل اس ایوان میں حزب اختلاف کے کل ارکان کی تعداد چالیس کے لگ بھگ ہے۔ حکومت کو اس ایوان میں ہر وقت کورم پورا رکھنے کے لیے انتظام کرنا پڑے گا کیوں کہ قومی اسمبلی میں ایک سے زائد مرتبہ کورم ٹوٹا تھا۔
قومی اسمبلی کی نسبت سینیٹ سے حکومت جلد بل منظور کرانے کی کوشش کرے گی کیونکہ اس ایوان میں اسمبلی کی نسبت ارکان ایک تہائی سے بھی کم ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس جو کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے صدر کے خطاب پر بحث کے لیے بلایا گیا تھا اس میں نہ صرف بحث مکمل کی بلکہ سلامتی کونسل کا بل بھی منظور کیا گیا جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔ سینیٹ کے اجلاس کے بارے میں کہا جا رہے کہ سلامتی کونسل کے بل کی منظوری کے علاوہ صدر کے خطاب پر بحث بھی مکمل کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||