قومی سلامتی کونسل پر بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں متنازع قومی سلامتی کونسل کے قیام کے بل پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ جمعہ تک یہ بل اسمبلی سے حکومت منظور کروالےگی جس کے بعد یہ بل ایوان بالا سینٹ میں بھیج دیا جائےگا۔ پیر کی شام قوائد کی معطلی کے بعد بل پر فوری بحث کی تحریک پیش کی گئی تو حزب اختلاف کے ارکان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ابھی تک متعلقہ بل کی نہ کاپی ملی ہے اور نہ ہی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انہیں بلایاگیا۔ حزب اختلاف نےسپیکر قومی اسمبلی اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بل کو ’بلڈوز‘ یا زبردستی منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجنے اور بل پر رائے عامہ معلوم کرنے کے بارے میں دو تحاریک پیش کئیں جو اکثریت رائے سے مسترد کردی گئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان تحاریک کی حمایت نہیں کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی پارلیمان کا کام ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل پارلیمان سے بالادست نہیں تاہم مسلم لیگ(ن) نے ایم ایم اے کا ساتھ دیا۔ قبل ازیں راجہ پرویز اشرف‘ لیاقت بلوچ اور دیگر ارکان نےنقطہ اعتراضات پر ’اتحاد برائے بحالی جمھوریت‘ کے صدر جاوید ھاشمی کو ایوان میں لانے کا مطالبہ کیا اور ایوان سے علامتی واک آوٹ بھی کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||