| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی سلامتی کونسل کی تیاریاں
وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کونسل کے قیام کے مسودۂ قانون کو حتمی منظوری دے دی ہے جسے پارلیمان کے آئندہ اجلاس میں باقاعدہ قانون سازی کے لئے رکھا جائے گا۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ اس قانون کی پارلیمان سے منظوری کے بعد پہلی دفعہ فوج کو حکومتی معاملات میں ایک رسمی کردار بھی مل جائے گا۔ اس کونسل میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اہم رہنما اور فوج کے بڑے کمانڈر شامل ہوں گے۔ وزیرِ اعظم میر ظفراللہ جمالی کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں قومی سلامتی کونسل کے جس مسودۂ قانون کو منظور کیا گیا ہے اس کے مطابق یہ کونسل ایک مشاورتی فورم کا کام کرے گی جس میں قومی اہمیت کے مسائل زیرِ بحث لائے جائیں گے۔ کونسل خود مختاری، ریاست کی سلامتی، پاکستان کی سالمیت، دفاع، جمہوریت اور بین الصوبائی نوعیت کے معاملات پر بھی بحث و تمحیص کر سکے گی۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے سیاسی نظام میں فوج کی براہ راست مداخلت کئی بار ہوئی ہے لیکن فوج نے ہمیشہ حکمرانی کے معاملات میں اپنے لئے آئینی کردار کی خواہش کی ہے۔ ماضی میں جمہوری حکومت نے فوج کے اس مطالبے کی کسی حد تک مزاحمت کی لیکن چار سال قبل جب جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں قومی سلامتی کونسل موجود ہوتی تو فوج کو مداخلت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اب ان کے اصرار پر ظفراللہ جمالی کی حکومت اس ادارے کے قیام کے لئے رضا مند ہوگئی ہے۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کا صدر کونسل کا چیئرمین ہوگا جبکہ دیگر اراکین میں وزیرِ اعظم، پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سپیکر/چیئرمین، صوبائی اسمبلیوں کے وزرائے اعلیٰ اور فوج کے چار کمانڈر شامل ہوں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||