BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 April, 2004, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قومی سلامتی کونسل‘ بل منظور

News image
سلامتی کونسل کے قیام کا بل سینیٹ میں پیش کیا جانے والا ہے جس کا اجلاس سنیچر کو ہو رہا ہے
پاکستان کی قومی اسمبلی نے بدھ کی شام حزب اختلاف کے شدید احتجاج کے دوران متنازعہ قومی سلامتی کونسل کے قیام کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

اب یہ بل ایوان بالا سینٹ میں بھیجا جائے گا اور سینیٹ کی منظوری کے بعد جب صدر مملکت بل پر دستخط کریں گے تو کونسل قائم ہو جائے گی۔

حکومت کی جانب سے منظور کرائے گئے اس بل کی کل نو شقیں ہیں۔ جن کے مطابق یہ کونسل قومی سلامتی کے امور بشمول اقتدار اعلیٰ، دفاع، ریاست کے تحفظ اور بحران سے نمٹنے کے لئے مشاورتی فورم کا کام کرے گی۔

بل کے متن کے مطابق تیرہ رکنی سلامتی کونسل کا سربراہ صدر ہوگا جبکہ ارکان میں وزیراعظم، چئرمن سینٹ، قومی اسمبلی کا سپیکر اور حزب اختلاف کا رہنما، چاروں صوبائی وزراء اعلی، چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، بری، بحری اور فضائیہ کے سربراہان بھی کونسل کے ارکان ہوں گے۔
کونسل کا اجلاس صدر اپنی صوابدید پر یا وزیر اعظم کے مشورے سے بلا سکتے ہیں۔ کونسل کے اجلاس میں کسی بھی شخص کو خصوصی دعوت پر بلایا جا سکتا ہے۔

کونسل کا طلب کردہ اجلاس دو یا زائد ارکان کی عدم موجودگی کی بنا پر ملتوی نہیں کیا جاسکے گا۔

حزب اختلاف کے کئی ارکان نے اس نقطے پر شدید اعتراضات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر تمام سویلن ارکان اجلاس میں نہ بھی آئیں تو فوجی خود ہی فیصلہ کردیں گے۔

بدھ کی شام جب اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے تمام ارکان نے کہا کہ عمران خان کو ذاتی نقطہ وضاحت پر بات کرنے دی جائے، جب سپیکر نے اجازت نہ دی تو انہوں نے کاروائی میں حصہ نہ لیا۔

صبح کے سیشن میں عمران خان اور چودھری شجاعت میں جنرل مشرف پر تنقید کے سوال پر جھڑپ ہوئی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ ’احتساب بیورو میں شجاعت کی کئی فائلیں کھلی ہوئی ہیں اور وہ کروڑوں کا قرضہ بھی کھا گیا ہے اس لئے جنرل کی خوشامد کر رہا ہے۔‘

جس پر شجاعت نے کہا کہ کل تک عمران خان جنرل کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتا تھا اور خود کو وزیر اعظم بنانے کی لئے منتیں کرتا تھا آج وہ کس منہ سے تنقید کرتے ہیں۔

بعد میں جب عمران کو دوبارہ موقعہ نہ ملا تو حزب اختلاف کے ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے نشستیں چھوڑ کر روسٹرم کے پاس سپیکر کے سامنے احتجاج کرنے لگے تو سپیکر نے عجلت میں بل منظوری کے لئے پیش کیا جو آواز کی ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا۔

بعد میں خزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے کیفے ٹیریا میں پریس کانفنس کے دوران حکومت پر الزام لگایا کہ قانون اور قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے بل منظور کرایا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات شیخ رشید نے عجلت میں بل منظور کرنے کے سوال پر کہا کہ حزب اختلاف کے غیرذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے ان کو ایسے کرنا پڑا کیوں کہ بقول ان کے حزب اختلاف غیر سنجیدہ تھی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اب جمعرات کی صبح تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد