سلامتی کونسل میں قرارداد مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کونسل جمعرات کے روز حماس کے رہنما شیخ یٰسین کی ہلاکت پر ایک مذمتی قرارداد پر بحث کرے گی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن الجیریا کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں عام شہریوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ اس قرار داد پر بحث کے بعد رائے شماری گرینیج کے معیاری وقت کے مطابق رات نو بجے ہوگی۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار مے مطابق یہ تو شروع سے ہی ظاہر تھا کہ سلامتی کونسل کے ارکان کو شیخ یاسین کے قتل سے متعلق کسی قرارداد کے متن پر راضی کرلینا انتہائی دشوار ہوگا اصل مسئلہ تو یہ تھا کہ آیا اسی قرارداد میں ان فلسطینی گروہوں پر بھی تنقید کی جائے یا نہیں جو اسرائیل پر حملے کرتے ہیں۔
تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ قرارداد میں ان فلسطینی گروہوں کی بھی مذمت کی جائے جو متشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ امریکی اس قرارداد کو ویٹو کردیں گے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان میں سے کتنے اس قرارداد کی حمایت کریں گے جسے منظوری کے لیے کسی ویٹو کے بغیر کم از کم نو ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ دریں اثناء جینیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت میں خصوصاً شیخ یاسین کے قتل کے بارے میں ایک قرارداد کی زبردست حمایت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||