سلامتی کونسل پر زبردست بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کی جانب سے پیش کردہ متنازعہ قومی سلامتی کونسل کے قیام کے بل پر منگل کے روز بھی پاکستان کی قومی اسمبلی میں گرماگرم بحث جاری رہی۔ حزب اختلاف کے ارکان نے حکومت اور فوج پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے قیام سے فوج کو سیاست میں قانونی طور پر مستقل قائدانہ کردار مل جائےگا۔ محمود حان اچکزئی کا کہنا تھا کہ جب سے پاکستان بنا ہے فوج سیاست میں قائدانہ کردار کی خواہش مند رہی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ پچاس برس سے سیاست دانوں اور فوج میں کشمکش چلی آرہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس نے بھی سلامتی کونسل کے قیام کے بل کے حق میں ووٹ دیا تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے جب فوج پر ملک توڑنے کا الزام عائد کیا تو ایوان میں ہنگامہ اور شدید شور شرابہ ہوگیا۔ حکومتی ارکان نے جوابی الزامات لگاتے ہوئے ملک توڑنے کا ذمہ دار مرحوم بھٹو کو قرار دیا۔ مجوزہ تیرہ رکنی سلامتی کونسل میں وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سمیت سویلین ارکان کی کل تعداد نو بنتی ہے جبکہ کونسل کے سربراہ صدر مملکت ہوں گے اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت چار ارکان فوج کے ہوں گے۔
یہ کونسل ملک میں کسی بھی بحران سے نمٹنے اور اھم قومی معاملات کے متعلق اعلیٰ سطح کا مجاز مشاورتی فورم ہوگی۔ منگل کو بحث کے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے صدر مشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ جب ایک فوجی نے سب کو مشکل میں ڈال سکتا ہے تو چار فوجی ہونے کی صورت میں کیا ہو گا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اعتزاز احسن نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل محض مشاورتی ادارہ ہوگا ان کو ججز کیس میں جاری کردہ عدالت اعظمیٰ کا وہ فیصلہ یاد رکھنا چاہیے جس میں عدالت نے مشاورت پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیا تھا۔ مجلس عمل کے رکن حافظ حسین احمد جن کا گلہ خراب تھا، اپنی تقریر کا آغاز اس مزاحیہ فقرے سے کیا کہ ظاہر ہے کہ جب ایسے بل آئیں گے تو گلے تو بند ہوں گے ہی نہ! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||