سیاسی مارکیٹ میں’مفاہمت‘ کی باتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف آئندہ دو ہفتوں میں فوجی وردی پہنے رکھنے یا اتارنے کا اعلان کرنے والے ہیں اور ان کے اس اعلان کو مبصرین ملکی سیاست کے لیے نئے سال کے تحفے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ صدر وردی کے متعلق جو بھی فیصلہ کریں گے یقیناً اس کے اثرات ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے اور ایک بار پھر سیاسی مارکیٹ میں تیزی پیدا ہوگی۔ وثوق سے تو فی الوقت صدر کی فوجی وردی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن اب تک کی حکومتی تیاریوں سے بظاہر یہ اشارے ضرور مل رہے ہیں کہ شاید صدر فوجی وردی اتارنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ فوجی وردی پہنے رکھنے کے بارے میں حکمران اتحاد نے پارلیمان سے بل بھی منظور کرالیا ہے جو ایک قانون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اکتیس دسمبر سے نافذ العمل ہوگا۔ حکومت اور حزب مخالف کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے درمیان گزشتہ سال ہونے والے معاہدے کے مطابق صدر کی فوجی وردی اتارنے کی آخری تاریخ ا کتیس دسمبر مقرر کی گئی تھی۔ جیسے جیسے وہ تاریخ قریب آرہی ہے ویسے ہی حکومت اور حزب مخالف کے درمیاں ’مفاہمت‘ کی باتیں ملک کی سیاسی مارکیٹ میں کثرت سے ہو رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کو ملک کی اعلیٰ عدالت نے آٹھ برس قید کاٹنے کے بعد ضمانت پر رہا کردیا۔ اب حکومت نیز حزب مخالف کی صفوں میں مسلم لیگ نواز کے رہنما جاوید ہاشمی، پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کی عدالت کے ذریعے ضمانت پر رہائی کی باتیں ہورہی ہیں۔ جاوید ہاشمی اور یوسف رضا گیلانی سزا یافتہ ہیں اور اس وقت قید میں ہیں۔ ہاشمی کو حکومت کی جانب سے قائم کردہ بغاوت کے ایک مقدمے سزا ہوئی ہے جبکہ گیلانی کو اسمبلی سیکریٹیریٹ میں قواعد کے برعکس ملازمتیں دینے کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔ دونوں نے حکومتی مقدمات میں ملنے والی سزاؤں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں علیحدہ علیحدہ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔ وزیراطلاعات شیخ رشید احمد کئی بار سیاسی مفاہمت کی باتیں کرچکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت نے ’مفاہمت کی ہانڈی چڑھا دی ہے‘۔ حکام کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کے نمائندے بینظیر بھٹو اور شہباز شریف سے رابطوں میں ہیں لیکن تاحال بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے لیکن فریقین میں رابطے بحال ہیں اور دیکھنا یہ ہوگا کہ ’سیاسی ہانڈی‘ میں مفاہمت کا سالن کب پکتا ہے؟ ایوانِ اقتدار میں ہونے والی کھسر پسر کے مطابق گزشتہ دنوں جاوید ہاشمی سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ایک اہم حکومتی شخصیت نےملاقات کی ہے۔ جاوید ہاشمی کی مقررہ مدت کے بعد دائر کردہ اپیل بھی قبول ہوئی ہے اور مزید پیش رفت کا دارومدار آئندہ دنوں میں ’سیاسی مفاہمت‘ کے لیے ہونے والی مبینہ خفیہ کوششوں اور رابطوں پر ہوگا۔ ایک وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف سے رابطوں میں کافی پیش رفت ہوئی ہے لیکن نواز شریف رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے معاملات میں تعطل پیدا ہوا ہے لیکن کوششیں جاری ہیں۔ پیر پگاڑہ پاکستان کے خفیہ سیاسی جوڑ توڑ کرنے والوں کو ’فرشتہ‘ کہتے ہیں۔ پیر صاحب کے ’فرشتے‘ جہاں حزب مخالف کے جلاوطن رہنماؤں سے رابطے میں ہیں وہاں ا کتیس دسمبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کے قوم سے خطاب کی تیاریاں بھی کر رہے ہیں۔ ’فرشتوں‘ کی خواہش اور کوشش ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف فوجی وردی کے بارے میں اعلان کے ساتھ ساتھ ’دوسرا اعلان‘ بھی کریں۔ دوسرے اعلان کے بارے میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کئی دہائیوں سے متنازعہ بنے ہوئے کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کیا جائے۔ ’فرشتوں‘ کا خیال ہے کہ اس سے ملک میں ایک نئی بحث چھڑ جائے گی اور حزب مخالف والوں کی فوجی وردی کے متعلق بات کوئی نہیں سنے گا۔ لیکن سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان حزب مخالف کی تحریک کے لیے جلتی پر تیل کا کام بھی دے سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||