اگلے سال عام انتخابات کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں منگل کو پاکستان پیلز پارٹی کا اڑتیسواں یوم تاسیس منایا گیا جس میں ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پارٹی کنونشن میں سترہویں ترمیم کے خاتمے، نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری اور اگلے سال کے شروع میں عام انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زردای، جو حال ہی میں آٹھ سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر جیل سے رہا ہوئے ہیں، کنونشن میں شریک نہیں ہوئے اور ان کی عدم حاضری کی کسی مقرر نے وضاحت بھی نہیں کی۔ لاہور کی وحدت روڈ پر علی گارڈن کے چھوٹے سے سبزہ زار میں پیپلز پارٹی کے تین رنگ کے جھنڈے ، پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو ، موجودہ چیئرپرسن بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کی تصاویر کے بینرز اور ان کی رہائی کی مبارکباد کے بینرز پنڈال کے چاروں طرف لگے تھے۔ بے نظیر کی والدہ اور سابق چیئرپرسن نصرت بھٹو کی کوئی تصویر نہیں تھی نہ کوئی ذکر کیا گیا۔ دوپہر سے شام تک جاری رہنے والے والے کنونشن میں بار بار ملک بھر سے آنے والے مقامی رہنماؤں اور قافلوں کا نام لے لے کر انہیں خوش آمدید کہا جاتا رہا۔ کنونشن سے چاروں صوبوں کے پارٹی کے صدور ، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پارٹی کے صدر اور مرکزی اور مقامی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے خطاب کیا۔ کرسیوں پر بیٹھے شرکاء ماضی کے برعکس نعرے لگانے میں زیادہ پُر جوش نظر نہیں آرہے تھے۔ ایک موقع پر بے نظیر کی سیکریٹری ناہید خان نے شرکاء سے اس کی شکایت بھی کی۔ شرکاء نے زیادہ تر جیئے بھٹو ، وزیراعظم بے نظیر اور اب راج کرے گی بے نظیر کے نعرے لگائے ۔ پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی میں قائد اور نائب چیرمین مخدوم امین فہیم جب آخری مقرر کے طور پر خطاب کے لیے ڈائس پر آئے تو کارکنوں نے دیر تک وزیراعظم بے نظیر کے نعرے لگائے۔ مخدوم امین فہیم نے پارٹی کے کارکنوں کو پارٹی کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے انہیں سلام پیش کیا اور کہا کہ آصف علی زرداری بھی پارٹی کا ایسا اثاثہ ہیں جیسے وہ خود اور پارٹی کے دوسرے کارکن ہیں۔ امین فہیم نے کہا کہ قائم مقام صدر میاں محمد سومرو نے صدر کے وردی میں رہنے کے بل پر دستخط کرکے اسے قانونی شکل دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ایک خوشی کی بات یہ ہے کہ اب ان سے دونوں عہدے خالی کرائے جائیں گے۔ انہوں نے نعرہ لگوایا کہ ’فوجی آمر دوڑے گا ، دونوں عہدے چھوڑے گا۔‘ امین فہیم نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں ربڑ اسٹیمپ بن گئی ہیں اور ایوان صدر سے جو حکم آتا ہے اس پر ٹھپہ لگادیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اسمبلیوں کی مدت بہت مختصر ہوتی ہے۔ انہوں نے سرکاری ارکان سے کہا کہ وہ آمر کے کہنے پر نہ چلیں ورنہ اور کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ ان اسمبلیوں کو ہٹا کر منصفانہ انتخابات کرائے جائیں اور اس کے لیے ایک ایماندار چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ سترہویں آئینی ترمیم کے تحت صدر مملکت آرمی چیف بن سکتا ہے لیکن ایک آرمی چیف صدر نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لوگ بھول گئے ہیں کہ انہوں نے صدر کے گرد تعمیر آئینی دیوار میں تو راستہ بنالیا لیکن آرمی چیف کے گرد آئینی دیوار میں راستہ نہیں ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سیاستدانوں کا بہت احتساب ہوگیا لیکن فوجی جرنیلوں، ججوں اور ملاؤں کااحتساب نہیں ہوا اور اب پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر ان کا احتساب بھی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان ایک نکتے پر اتحاد ہے کہ مشرف وردی اتاریں لیکن مل کر تحریک چلانے کے لیے ایم ایم اے کو اپنا اعتبار قائم کرنا ہوگا کیونکہ اس نے اے آر ڈی کو چھوڑ کر راتوں رات سترہویں ترمیم پر دستخط کیے اور ایک سال کے لیے مشرف کی وردی کو تسلیم کیا۔ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے موجودہ کنونشن میں کارکنوں کی شرکت سے اسٹیبلشمینٹ کو دو پیغام گئے ہیں کہ بے نظیر کو روکنا ان کے بس کی بات نہیں اور اب پیپلز پارٹی کا ورکر میدان میں نکل چکا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے بہت سے دوسرے مقررین کی طرح اس بات پر زور دیا کہ اب بے نظیر کی آمد آمد ہے اور کارکن نئے انتخابات کی تیاریاں کریں۔ کنونشن نے اپنی متعدد قراردادوں میں مطالبہ کیا کہ بے نظیر بھٹو کی ملک واپسی کے لیے ان پر قائم مقدمات ختم کیے جائیں۔ قرار دادوں میں سترہویں ترمیم کے خاتمے ، فوج کی بیرکوں میں واپسی اور سن دو ہزار پانچ کی پہلی سہ ماہی میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک قرار داد میں سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||