ذوالفقار علی بھٹو کی پچیسویں برسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار اپریل انیس سو اناسی کو کئی ممالک کی اپیل کے باوجود پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر اکیاون برس تھی۔ بھٹو کو ایک سیاسی مخالف محمد احمد خان قصوری کے قتل کے مقدمے میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ بھٹو کے لئے معافی کی اپیل کرنے والوں میں اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جیمز کیلاہیم شامل بھی تھے۔ اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل کرٹ والڈہائم نے بین الاقوامی رہنماؤں کی اپیلوں کے مسترد کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ بھٹو انیس سو تہتر میں ملک کے وزیر اعظم بنے تھے اور پھانسی سے اکیس ماہ قبل ایک فوجی بغاوت میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ دو دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی موضوع بحث ہے اور اس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پر جانبداری کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی تھے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑا سنگ میل تھا۔ بھٹو کے حمایتی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے قیام کے ذریعے وہ سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں پر لے آئے اور انہوں نے عوام کو سیاسی شعور دیا۔ تاہم ان کے مخالفین بھٹو پر صنعتوں اور بنکوں کو نیشنلائز کرنے کی وجہ سے تنقید کرتے ہیں اور ملکی معیشت کی گاڑی کو غلط راستے پر ڈالنے کا الزام لگاتے ہیں۔ بھٹو پر ان کے مخالفین یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ ان کی اقتدار کی ہوس کی وجہ ملک دو ٹکڑے ہوا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ بھٹو کی جماعت پیپلز پارٹی کے ’روٹی کپڑا اور مکان‘ کے نعرے نے غریبوں کو بہت متاثر کیا تھا۔ ان کی پارٹی کے کارکنوں اور ملک کے نچلے طبقوں میں شہرت بعض فوجی آمروں سے اختلافات کے باوجود ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کے دو بار اقتدار میں آنے کا باعث بنی۔ حالیہ سالوں میں میں پاکستان اور بھارت کی طرف سے جوہری دھماکوں کی وجہ سے بھی ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انیس سو ستر کی دہائی کے اوائل میں بھارت کی طرف سے ایٹمی تجربات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے جوہری پروگرام پر تیزی سے کام کرنے کا اعادہ کیا جو بعد میں چاغی میں ایٹمی دھماکوں کا باعث بنا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||