BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2004, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جعلی ڈگریوں پر ہنگامہ

متحدہ مجلس عمل اس احتجاج میں نے حصہ نہیں لیا۔
متحدہ مجلس عمل اس احتجاج میں نے حصہ نہیں لیا۔
پیر کے روز حزب اختلاف کے زبردست احتجاج اور شیم شیم کے نعروں کے درمیان حکومتی جماعت کے ہارون اختر خان نے پنجاب اسمبلی کے رکن کا حلف اٹھایا۔

وفاقی وزیر ہمایوں اختر کے بھائی ہارون اختر حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ(ن) کے رکن شیخ امجد عزیز کی ڈگری جعلی ہونے پر الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کے بعد لاہور کے ایک حلقے سے منتخب قرار دیے گۓ ہیں۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے اس احتجاج میں متحدہ مجلس عمل نے حصہ نہیں لیا۔

ہارون اختر عبدالرحمن کے حلف اٹھانے سے پہلے حزب اختلاف نے زبردست احتجاج کیا اور عدلیہ، جرنیلوں اور حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔

اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی رہنما رانا ثناللہ نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ حزب اختلاف کو سپریم کورٹ سے بھی ریلیف نہیں ملے گا کیونکہ جب معاملہ مسلم لیگ(ق) کا ہو تو عدالت کے فیصلے اور ہوتے ہیں اور جب حزب اختلاف کا کوئی معاملہ عدالت میں جاۓ تو اسے دوسری طرح ڈیل کیا جاتا ہے۔

رانا ثنااللہ نے ایکک صوبائی وزیر جیل خانہ جات سعید اکبر نوانی کی بی اے کی ڈگری جعلی ہونے کا الزام لگایا اور صوبائی وزیرقانون راجہ بشارت سے کہا کہ وہ بھکر میں درج ایف آئی آر دیکھیں جو ان کے وزیر کے خلاف ہے اور اس کی کاپی بھی وزیر کو پیش کی۔

رانا ثناللہ نے کہا کہ صرف ایک رکن کی حلف برداری کے لیے یہ اجلاس ہنگامی طور پر بلایا گیا ہے جس پر کروڑوں روپے خرچ کیے گۓ ہیں اور ٹیلی فون پر ارکان کو اجلاس کی خبر دے کر بلایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی جو اجلاس میں عام طور پر نہیں آتے وہ بھی آج صبح نو بجے اجلاس میں آگۓ ہیں اور سرکاری ارکان کی کبھی اتنی حاظری نہیں رہی جتنی آج کے اجلاس میں ہے کیونکہ حکومت نے اجلاس کامیاب بنانے کے لیے انہیں حاظر ہونے کی دھمکی دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی مقصد کے لیے گزشتہ روز کابینہ سے بھی دو قانون سازی کے بل افراتفری میں منطور کراۓ گۓ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رانا آفتاب نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ایوان میں ایک کمیٹی بنائی جاۓ جو تمام ارکان کی ڈگریوں کا جائزہ لے کیونکہ اور بہت سے ارکان کی ڈگریوں کے بارے میں یہ شکایات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کی روایت ہے کہ اجلاس تین بجے سہ پہر کو بلایا جاتا ہے جبکہ آج یہ صبح کے وقت طلب کرلیا گیا ہے۔

مسلم لیگ(ن) کے رکن رانا مشہود کا موقف تھا کہ اسمبلی کی ایک چار رکنی کمیٹی شیخ امجد کی ڈگری کو درست قرار دے چکی تھی اور ان کے بی اے کے نتیجہ کا انیس سو اناسی میں باقاعدہ گزٹ میں ذکر ہے اور تین ماہ گزرنے کے بعد تو اس گزٹ کو چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ہارے ہوۓ ہارون اختر کو چمک کے ذریعے کامیاب قرار دیا ہے کیونکہ وہ ایک جرنیل کا بیٹا ہے۔

پیپلز پارٹی کے راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ایک جرنیل کے بیٹے کی جگہ کوئی غریب کا بیٹا ہوتا تو کیا عدالت ایسا ہی فیصلہ دیتی۔ انھوں نے عدلیہ پر سخت تنقید کی۔

بعد میں ویراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو قوانین کی منظوری کے لیے بلایا گیا اور حزب اختلاف کا یہ پروپیگنڈا درست نہیں کہ کہ اجلاس محض ہارون اختر کے حلف کے لیے بلایا گیا ہے۔

صوبائی وزیر راجہ بشارت نہ کہا کہ یہ درست ہے کہ پنجاب اسمبلی کی کچھ روایات رہی ہیں لیکن ہمیں اگے بڑھنا ہے تو بعض روایات کو آگے بڑھانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آئیندہ پنجاب اسمبلی اجلاس دس گھنٹے کے نوٹس پر بھی بلایا جاسکتا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم عمران مسعود نے اسمبلی میں کہا کہ شیخ امجد عزیز کی ڈگری جعلی ثوبت ہونے سے پورے ایوان کی تذلیل ہوئی ہے اورانھوں نے اپنی جماعت کے منہ پر کالک ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکان کو اسمبلی میں ایسی باتوں کو نمایاں نہیں کرنا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد